صحافیوں کے لیے وزیراعظم ہیلتھ انشورنس اسکیم جلد متعارف ہوگی
وفاقی سیکرٹری اطلاعات اشفاق احمد خلیل نے اسلام آباد میں اے پی این ای سی گلگت بلتستان چیپٹر کی تقریب حلف برداری میں یہ اعلان کیا، مگر اسکیم کی تاریخ یا کوریج کی رقم نہیں بتائی۔

وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اشفاق احمد خلیل نے کہا ہے کہ وزیراعظم ہیلتھ انشورنس اسکیم برائے صحافیوں اور میڈیا ورکرز جلد ایک بہتر اور زیادہ جامع شکل میں متعارف کرائی جائے گی، تاہم تقریب میں اسکیم کے آغاز کی تاریخ، بیمے کی رقم یا اہلیت کے معیار کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔
پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ اعلان اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں آل پاکستان نیوز پیپرز اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایمپلائز کنفیڈریشن (اے پی این ای سی) کے گلگت بلتستان چیپٹر کے نو منتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جرنلزم پاکستان نے اسکیم کو ”دوبارہ متعارف“ قرار دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی کوئی سابقہ شکل موجود تھی۔
خلیل نے کہا کہ صحافت حکومت اور عوام کے درمیان ایک اہم پل ہے اور میڈیا ورکرز عوامی مسائل اجاگر کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا انڈسٹری کے کارکنوں کی خدمات کا اعتراف اور ان کے مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات ضروری ہیں، اور بہتر کام کے ماحول کے لیے تمام فریقوں کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے دروازے صحافی برادری کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ صحافی سچائی کو فروغ دینے اور جمہوری اقدار کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور میڈیا ورکرز کی فلاح کے لیے سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔
پرنسپل انفارمیشن آفیسر رائیسہ عادل نے کہا کہ صحافیوں کی پیشہ ورانہ خدمات نہایت اہم ہیں اور پریس تنظیموں اور متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ ان کے مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے۔
تقریب کے میزبان اور اے پی این ای سی کے چیئرمین محمد صدیق انظر نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق اور فلاح کا تحفظ صحافتی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور انہوں نے پریس تنظیموں کے درمیان اتحاد پر زور دیا۔
رپورٹ کے مطابق نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، اے پی این ای سی گلگت بلتستان کی چیئرپرسن مہوش ممتاز بیگ، میڈیا ورکرز آرگنائزیشن کے صدر کلیم شمیم، طارق عثمانی، ڈاکٹر سعدیہ کمال اور فاروق مرزا نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے میڈیا ورکرز کی فلاح کے لیے ملازمتوں کے تحفظ، معاشی تحفظ اور سرکاری اداروں کے ساتھ مؤثر رابطے کا مطالبہ کیا۔
تقریب میں اسکیم کی مالی معاونت، ہسپتال کوریج کی حد اور میڈیا ورکرز کے اندراج کے طریقہ کار کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں، اور نہ ہی سیکرٹری اطلاعات یا وزارت اطلاعات نے یہ واضح کیا کہ اندراج کب شروع ہوگا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

فخر زمان کی سنچری، 4 ہزار ایک روزہ رنز کا سنگ میل بھی عبور
پاکستان کے بلے باز نے یہ سنگ میل اپنے 97ویں ایک روزہ میچ میں عبور کیا اور 4 ہزار ایک روزہ رنز بنانے والے ملک کے 16ویں بلے باز بن گئے۔