خواجہ آصف نے تہران اجلاس پر فضل الرحمان کی تنقید مسترد کر دی
وزیرِ دفاع کا قومی اسمبلی میں کہنا ہے کہ ایران میں کوئی دفاعی معاہدہ زیرِ بحث نہیں تھا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں امن اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے لیے گئے تھے

اسلام آباد: وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ تہران میں ہونے والی ملاقاتوں میں کوئی دفاعی معاہدہ زیرِ بحث نہیں تھا، اس لیے ان کی وہاں موجودگی ضروری نہیں تھی۔ انہوں نے یہ بات جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہی، جنہوں نے ایک روز قبل ایوان میں سوال اٹھایا تھا کہ ایران میں دفاعی امور سے متعلق اہم اجلاس ہو رہا ہے اور پاکستان کے وزیرِ دفاع اس میں شریک نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے بدھ کو ایوان میں کہا تھا کہ وزیرِ دفاع اور وزیرِ خارجہ ایوان میں موجود ہیں جبکہ وزیرِ داخلہ تہران میں بیٹھے ہیں، اور اس صورتحال پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ آج نیوز کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ اپنی عزت اور وقار کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
جمعرات کو جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ تہران کی سرگرمیاں وزارتِ دفاع کے مینڈیٹ کا حصہ نہیں تھیں، اس لیے ان کی شرکت ضروری نہیں تھی۔ بی بی سی اردو کے مطابق انہوں نے کہا کہ نہ کوئی دفاعی معاہدہ زیرِ غور تھا اور نہ کسی ملک کا وزیرِ دفاع اس عمل کا حصہ تھا، اور فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی کوششوں کے سلسلے میں وہاں موجود تھے۔ آج نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور اس معاملے پر وسعتِ قلبی سے کام لینا چاہیے۔
اس کے بعد وزیرِ دفاع نے مولانا فضل الرحمان کے ریکارڈ پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے پوچھا کہ مولانا تقریباً دس برس کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، اس دوران مراعات حاصل کرنے کے علاوہ کشمیر کے لیے کیا کیا۔ انہوں نے ایک جماعت کا نام لیے بغیر الزام لگایا کہ اسی جماعت نے مذہب اور سیاست کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا، اور متنبہ کیا کہ انہیں ماضی کی باتیں نہ کھلوائی جائیں۔
آج نیوز کے مطابق خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا مختلف ادوار میں حکومتوں کا حصہ رہے اور دوسروں پر تنقید سے پہلے اپنے سیاسی ماضی پر نظر ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ایل ایف او پر تنقید کرتے تھے لیکن خود ایل ایف او کے تحت قائم ہونے والی حکومت کا حصہ رہے، دو سال پہلے ان کے پاس کئی عہدے تھے، اور جب وہ ہائبرڈ نظام کے حق میں بات کرتے ہیں تو انہیں پرانی تقاریر یاد دلائی جاتی ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ انہیں بھی 2018 کے انتخابات پر اعتراضات تھے، جیسے آج ان کے سیاسی دوستوں کو ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنی سیاست میں مزید اہمیت پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ایک سیاسی یتیم جماعت نے ان کی چھپر چھاؤں قبول کر لی ہے۔ ان کے بقول ان کی جماعت نے مولانا کی تقریر انتہائی تحمل سے سنی، تاہم وہ پی ڈی ایم حکومت کے دوران حاصل کیے گئے عہدوں اور مراعات پر بھی بات کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں اس طرف جانے پر مجبور نہ کیا جائے۔ بی بی سی اردو کے مطابق انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ مولانا کے دفاع کے لیے اب کوئی مرد باقی نہیں رہا، اس لیے خواتین کو میدان میں آنا پڑا۔ آج نیوز کے مطابق اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا اور ایک بار پھر کورم کی نشاندہی بھی کی گئی۔
اپنی تقریر میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت پہلے یہ موقف اٹھاتی رہی ہے کہ عالمی طاقتیں اور بعض بااثر حلقے خطے کے معدنی وسائل میں دلچسپی رکھتے ہیں اور دہشت گردی کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اور معدنیات پر آج کی بحث ان کے خدشات کو تقویت دیتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان پر امریکی حملے کے لیے دہشت گردی کو جواز بنایا گیا جس سے کئی مسلم ممالک عدم استحکام کا شکار ہوئے۔ انہوں نے گورنر راج پر آئینی نکات بھی اٹھائے اور کہا کہ متعلقہ دستاویز میں صدر کی اس اطمینان کا واضح ذکر موجود نہیں کہ کسی صوبے میں امن و امان خراب ہے اور حکومت آئینی طریقے سے نہیں چل رہی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر میں جاری احتجاج کے حل کی طرف بڑھا جائے۔
واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان حالیہ مہینوں میں حکومت کے مختلف فیصلوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ بی بی سی اردو کے مطابق جولائی 2026 میں بھی انہوں نے شدت پسندی سے نمٹنے کی حکومتی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھائے تھے، جس پر حکومت اور ان کی جماعت کے درمیان سخت بیان بازی دیکھنے میں آئی تھی۔

اسلام آباد میں ٹیلی سرجری سے پہلا روبوٹک گال بلیڈر آپریشن
ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اسے دارالحکومت کا پہلا آپریشن قرار دیا جبکہ اردو پوائنٹ نے ملک کا پہلا کہا، اور کسی رپورٹ میں ہسپتال، ڈاکٹروں یا مریض کا نام نہیں بتایا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ: بریت پانے والوں کے کردار سرٹیفکیٹ پر مقدمے کا ذکر ممنوع
جسٹس ایاز شوکت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ ایسی ایف آئی آرز سرٹیفکیٹ میں درج نہ ہوں جن کا انجام حتمی بریت ہو

وزیراعظم کا پاک چین فرینڈشپ ہسپتال میں مفت علاج کا حکم
چین کے تحفے میں ملنے والا 182 بستروں کا یہ ہسپتال برسوں بند رہا، اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اسے چلائے گا اور علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔

سی ڈی اے کا فضل الرحمان کو 15 دن میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا حکم
30 اکتوبر کے نوٹس میں سیکٹر G-6/4 کے پلاٹ پر غیر مجاز گارڈ پوسٹ، سی ڈی اے کی زمین پر جنریٹر اور لازمی بفروں میں تعمیر کو خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔