خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے
کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے گزشتہ تین ماہ کے دوران صوبے بھر میں غیر قانونی طور پر چل رہے 1,465 میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے۔ کمیشن کی تازہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی کی گئی، اور ڈان نے جمعہ کو یہ اعداد و شمار شائع کیے۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور مختلف خلاف ورزیوں پر 2,668 مراکز کو وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔ صوبے بھر میں یہ اوسطاً روزانہ تقریباً 72 معائنوں کے برابر بنتا ہے۔
کمیشن کے ترجمان اعظم رحمان نے کہا کہ سیل کرنے کی کارروائی کے ساتھ ساتھ طبی اداروں کی رجسٹریشن اور لائسنسنگ کو بہتر بنانے اور عوام کی شکایات کے ازالے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوا، اور خیبر پختونخوا نے یہ کمیشن قائم کیا جو پرائیویٹ کلینک، لیبارٹریز، ڈائیگناسٹک سینٹرز اور چھوٹے ہسپتالوں کو لائسنس دیتا ہے، ان کا معائنہ کرتا ہے اور بغیر لائسنس چلنے والے مراکز سیل کر سکتا ہے۔
ڈان نے یہ اعداد و شمار شائع کیے، اور یو اے نیوز نے بھی ڈان کے حوالے سے یہی تعداد بتائی۔
ڈان کی شائع کردہ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سیل کیے گئے مراکز کا ضلع وار تقسیم کیا ہے، نہ یہ کہ کتنے مراکز کاغذی کارروائی درست کرنے کے بعد دوبارہ کھولنے کی اجازت پا گئے، اور نہ ہی پولیس یا عدالت میں بھیجے گئے کسی کیس کی تفصیل دی گئی۔ 2,668 نوٹس کی وجوہات صرف ”مختلف خلاف ورزیاں“ بتائی گئیں اور ان کی فہرست نہیں دی گئی۔
تین ماہ میں کمیشن نے جتنے مراکز سیل کیے اس سے زیادہ نوٹس جاری کیے: 2,668 بمقابلہ 1,465۔
سیل شدہ مرکز کمیشن کی اجازت کے بغیر مریضوں کا علاج نہیں کر سکتا۔

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی
پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔
وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا
اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

پی ٹی آئی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی: اندرونی گروہ بندی کی تردید، عمران خان تک رسائی کا مطالبہ
اجلاس میں گوہر علی خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اعلان، گورنر راج اور ایمرجنسی کو مسترد کرتے ہوئے عدالتی و سیاسی فورمز پر چیلنج کرنے کا فیصلہ۔