کے ایس ای 100 میں 266 پوائنٹس کا اضافہ، سرمایہ کار محتاط
بینچ مارک انڈیکس 170,765.22 پوائنٹس پر بند ہوا، جو جمعرات کی 1,733.57 پوائنٹس کی کمی کے بعد 0.16 فیصد بہتری ہے۔

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جمعے کو 266.28 پوائنٹس یعنی 0.16 فیصد بڑھ کر 170,765.22 پر بند ہوا، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق۔ اس سے پچھلے سیشن یعنی جمعرات کو یہ انڈیکس 170,498.95 پر بند ہوا تھا۔
یہ معمولی بحالی جمعرات کو ہونے والے بڑے نقصان کے بعد آئی۔ اے پی پی کی ایک علیحدہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کے ایس ای 100 جمعرات کو 1,733.57 پوائنٹس یعنی 1.01 فیصد گرکر 170,498.95 پر بند ہوا جبکہ بدھ کو یہ 172,232.51 پر تھا۔ اے پی پی کے مطابق جمعرات کو ریڈی مارکیٹ میں 759.974 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔
منٹ مرر نے رپورٹ کیا کہ جمعے کو ٹریڈنگ ملی جلی رہی کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ اس کے مطابق سیشن کے دوران انڈیکس 266 پوائنٹس بڑھ کر 170,765 پوائنٹس پر بند ہوا، لیکن جغرافیائی سیاسی پیش رفت اور علاقائی و عالمی منڈیوں پر ان کے ممکنہ اثرات کی غیر یقینی کے باعث سرمایہ کاروں کے جذبات محتاط رہے۔
کسی بھی ادارے نے جمعے کی تبدیلی کی کوئی واحد وجہ نہیں بتائی۔ منٹ مرر کے حوالے سے مارکیٹ ذرائع نے کہا کہ سرمایہ کار ایسی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو علاقائی اور عالمی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔
اس طرح ہفتے کے دوران بینچ مارک بدھ کو 172,232.51 سے جمعرات کو 170,498.95 اور پھر جمعے کو 170,765.22 پر رہا، یعنی یہ بدھ کی بندش سے 1,467.29 پوائنٹس نیچے ہے۔ اے پی پی کی جمعے کی رپورٹ نے سیشن کو 0.16 فیصد مثبت تبدیلی کے ساتھ تیزی والا قرار دیا جبکہ جمعرات کی رپورٹ نے اسے 1.01 فیصد منفی تبدیلی کے ساتھ مندی والا قرار دیا۔ زیر جائزہ رپورٹوں میں جمعے کے کاروباری حجم کا اعداد و شمار فراہم نہیں کیا گیا۔
کے ایس ای 100 پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا مرکزی ایکویٹی انڈیکس ہے جو کراچی میں واقع ہے۔ اس انڈیکس کی روزانہ کی تبدیلیوں پر ملک بھر کے سرمایہ کار اور کاروباری ادارے نظر رکھتے ہیں۔
اے پی پی اور منٹ مرر دونوں نے انڈیکس کی ایک ہی بندش کی سطح بتائی، تاہم اے پی پی نے درست اعداد و شمار 170,765.22 دیے جبکہ منٹ مرر نے اسے 170,765 پوائنٹس تک گول کر دیا۔ ایران امریکہ کشیدگی نے حالیہ ہفتوں میں عالمی منڈیوں کو دباؤ میں رکھا ہے، منٹ مرر کے مطابق کراچی میں بھی سرمایہ کار اس سے مستثنیٰ نہیں رہے۔ رپورٹ میں جمعے کے سیشن کے محرک کے طور پر کسی ملکی سیاسی یا معاشی پیش رفت کا ذکر نہیں کیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔