کے ایس ای 100 انڈیکس میں 400 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ
منگل کو صبح 10 بج کر 10 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 409.21 پوائنٹس بڑھ کر 171,562.37 پر ٹریڈ ہوا، بزنس ریکارڈر کے مطابق۔

منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان جاری رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس صبح 10 بج کر 10 منٹ پر 409.21 پوائنٹس کے اضافے کے بعد 171,562.37 پر ٹریڈ ہو رہا تھا، بزنس ریکارڈر نے رپورٹ کیا۔ آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش، بجلی کی پیداوار اور ریفائنریز کے شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ اٹک ریفائنری، حب پاور، ماری انرجیز، او جی ڈی سی، پاکستان آئل فیلڈز، حبیب بینک، ایم سی بی بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک سمیت بڑے اسٹاکس سبز رہے۔
یہ تیزی پیر کے دن کی مخلوط کارکردگی کے بعد آئی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 268.58 پوائنٹس یعنی 0.16 فیصد بڑھ کر 171,153.17 پر بند ہوا۔ انڈیکس نے دن کے دوران 171,732.62 کی بلند ترین اور 170,902.76 کی کم ترین سطح چھوئی۔ دوسری جانب ڈیونیا نیوز نے سرخی لگائی کہ پی ایس ایکس نے ہفتے کا آغاز بلند سطح پر کیا اور کے ایس ای 100 میں 800 پوائنٹس سے زائد اضافہ ہوا، تاہم ایکسپریس ٹریبیون اور بزنس ریکارڈر نے پیر کے روز حتمی اضافہ 268.58 پوائنٹس بتایا۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق منگل کو خریداری کا رجحان ایشیائی مارکیٹوں میں تیزی اور جغرافیائی کشیدگی میں کمی سے مدد ملا۔ ایشیائی مارکیٹوں میں ٹیکنالوجی اسٹاکس کی قیادت میں اضافہ ہوا جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکہ ایران مذاکرات کی امیدوں نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات بھی توجہ کا مرکز ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون نے بتایا کہ پیر کو تیل کی قیمتوں میں کمی اور سعودی عرب کی جانب سے خام تیل کی ترسیل میں بحالی سے مثبت جذبہ پیدا ہوا، تاہم ایران نواز حوثیوں کے حملوں کے باعث علاقائی سپلائی کے خدشات برقرار رہے۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے علی نجیب نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا جذبہ ملا جلا رہا اور محتاط رویہ اختیار کیا گیا۔
پیر کے روز لکی سیمنٹ، اٹک ریفائنری، فوجی فرٹیلائزر، ماری انرجیز اور اینگرو فرٹیلائزر نے انڈیکس میں 255 پوائنٹس کا اضافہ کیا جبکہ پاکستان سروسز، میزان بینک، سسٹمز لمیٹڈ، یونائیٹڈ بینک اور او جی ڈی سی نے 172 پوائنٹس کی کمی کی۔ ٹریڈنگ والیوم 576.2 ملین سے بڑھ کر 692.8 ملین شیئرز تک پہنچ گیا۔
ٹیک جوس نے عارف حبیب لمیٹڈ کے حوالے سے بتایا کہ اگست 2026 میں پاکستان میں بجلی کی پیداوار سالانہ بنیاد پر 5.1 فیصد بڑھ کر 14,943 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جو سات سالہ اوسط سے 1.4 فیصد زیادہ ہے لیکن اگست 2021 کی 16,176 میگاواٹ کی بلند ترین سطح سے کم ہے۔ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ کیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اگر جغرافیائی کشیدگی کم ہوتی ہے اور تیل کی قیمتیں نیچے جاتی ہیں تو مارکیٹ میں منتخب خریداری کا امکان ہے، تاہم بلند توانائی کی قیمتیں، بیرونی شعبے کے خطرات اور آئندہ آئی ایم ایف جائزہ اہم عوامل رہیں گے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔