مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

اسٹیٹ بینک کے فیصلے سے قبل کے ایس ای 100 میں 715 پوائنٹس کی کمی

بینکوں، سیمنٹ، آٹو اور توانائی کمپنیوں کے حصص میں فروخت کے دباؤ کے باعث بینچ مارک انڈیکس دوپہر تک 161,660.24 پوائنٹس پر آ گیا، جبکہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس پیر کو ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
اسٹیٹ بینک کے فیصلے سے قبل کے ایس ای 100 میں 715 پوائنٹس کی کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کو کاروبار دباؤ میں رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دوپہر 12:24 بجے 714.63 پوائنٹس یعنی 0.44 فیصد کمی کے ساتھ 161,660.24 پوائنٹس پر آ گیا۔ یہ اعداد و شمار دی ایکسپریس ٹریبیون اور منٹ مرر دونوں نے شائع کیے۔ گزشتہ سیشن میں انڈیکس 162,374.87 پر بند ہوا تھا۔

فروخت کا دباؤ وسیع تھا اور کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہا۔ دونوں رپورٹس کے مطابق آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ مینوفیکچررز، تجارتی بینکوں، ریفائنریز، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حصص میں فروخت ہوئی۔

کاروبار کی شروعات احتیاط کے ساتھ ہوئی۔ صبح 9:34 بجے انڈیکس 162,347.31 پر تھا، یعنی 27.56 پوائنٹس یا 0.02 فیصد کی کمی، اور بعد ازاں نقصان مزید بڑھ گیا۔ دورانِ کاروبار انڈیکس نے 162,487.82 کی بلند ترین اور 161,250.06 کی کم ترین سطح کو چھوا۔ کاروبار کا حجم 53.42 ملین حصص رہا جبکہ حصص کی تجارت کی مالیت تقریباً 3.39 ارب روپے بتائی گئی۔

دونوں رپورٹس نے اس کمی کی وجہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے قبل سرمایہ کاروں کی احتیاط کو قرار دیا، جس میں پیر کو شرحِ سود کا اعلان متوقع تھا۔ دی ایکسپریس ٹریبیون نے اسے شرحِ سود میں اضافے کی فکر قرار دیا جبکہ منٹ مرر نے ممکنہ اضافے پر تشویش کی بات کی۔ کسی بھی رپورٹ میں کمیٹی کے فیصلے کا نتیجہ درج نہیں، اور دونوں خبریں مارکیٹ کے دورانِ کاروبار میں تیار کی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق فیصلے کا پس منظر مسلسل افراطِ زر، توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت اور کاروباری سرگرمی پر ان کے اثرات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ہے۔ قرضے کی لاگت بڑھنے سے کمپنیوں کے مالی اخراجات میں اضافہ ہوگا، نجی شعبے کی جانب سے قرضے کی طلب کمزور پڑ سکتی ہے اور سرمایہ کاری کے منصوبے مؤخر ہو سکتے ہیں۔

گزشتہ سیشن میں انڈیکس 162,374.87 پر بند ہونے کے بعد پیر کی کمی نے نقصان کو مزید آگے بڑھایا۔ مجموعی سطح کے لحاظ سے 0.44 فیصد کمی معمولی ہے، لیکن یہ بہت سے شعبوں تک پھیلی، جن میں بینک اور سیمنٹ جیسے بھاری وزن والے شعبے بھی شامل ہیں۔

مانیٹری پالیسی کا اعلان پیر کو بعد ازاں متوقع ہے، اور دونوں ذرائع ابلاغ نے مارکیٹ کی سمت کو کمیٹی کے فیصلے سے مشروط قرار دیا۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔