لاہور میں اے آئی ٹریفک سگنل منصوبہ 580 ملین روپے کی کمی کا شکار
ٹیپا کے مطابق رواں مالی سال میں اب تک صرف 10 ملین روپے جاری ہوئے ہیں، جبکہ منصوبے کی لاگت 590 ملین روپے سے زیادہ ہے اور تقریباً 30 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

ٹریفک انجینئرنگ اینڈ پلاننگ ایجنسی (ٹیپا) نے پنجاب حکومت سے 580 ملین روپے سے زائد کی فراہمی کی درخواست کی ہے تاکہ لاہور بھر میں اے آئی پر مبنی وہیکل ویڈیو ڈیٹیکشن ٹریفک سگنلز کی تنصیب مکمل کی جا سکے۔ ٹیک جوس کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں اس منصوبے کو صرف 10 ملین روپے ملے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹیپا کے چیف انجینئر نے پنجاب ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کو ایک سمری بھیج کر رقم جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ منصوبہ 590 ملین روپے سے زائد کی لاگت سے منظور ہوا تھا اور اس کا پائلٹ مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔
اسی سمری کے مطابق کل کام کا تقریباً 30 فیصد حصہ، بشمول پائلٹ، مکمل ہو چکا ہے۔ ٹیپا نے شہر کے کئی مقامات پر جدید پیلیکن سگنل نصب کیے ہیں، جن میں اڈا پلاٹ اور جٹی امرہ چوک شامل ہیں۔
باقی مقامات پر سگنلز خودکار وہیکل ویڈیو ڈیٹیکشن سسٹم کے تحت نصب کیے جائیں گے، جو مقررہ وقت کی بجائے کیمروں کے ذریعے ٹریفک کے بہاؤ کو پڑھ کر کام کرتا ہے۔
ٹیپا نے صوبائی حکومت پر زور دیا ہے کہ پوری رقم رواں مالی سال ہی میں جاری کی جائے تاکہ منصوبہ بروقت مکمل ہو سکے اور شہر میں اے آئی سے چلنے والے سگنلز کے ذریعے ٹریفک کی روانی بہتر ہو۔
اعداد و شمار کے مطابق ایجنسی کو جتنی رقم درکار ہے اور جو اب تک ملی ہے، ان میں بڑا فرق ہے۔ 590 ملین روپے سے زائد لاگت کے منصوبے کے لیے اس سال 10 ملین روپے دیے گئے، اور ٹیپا باقی کام مکمل کرنے کے لیے 580 ملین روپے سے زائد مانگ رہی ہے۔
ٹیک جوس نے یہ درخواست اور سمری کی تفصیلات شائع کیں۔ سکردو ٹائمز نے رقوم، کام کے مرحلے اور نصب شدہ سگنلز کے مقامات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی، اور رپورٹ میں پنجاب حکومت کے کسی اہلکار کا اس درخواست پر ردعمل نقل نہیں کیا گیا۔
لاہور کے چوراہے ملک کے مصروف ترین چوراہوں میں شمار ہوتے ہیں اور صوبائی حکومت پر شہر میں ٹریفک کے انتظام کو بہتر بنانے کا دباؤ رہا ہے۔ باقی سگنلز اسی مالی سال نصب ہوں گے یا نہیں، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ محکمہ خزانہ اور محکمہ ہاؤسنگ ٹیپا کی مانگی گئی رقم جاری کرتے ہیں یا نہیں۔

فخر زمان کی 127 رنز کی بدولت پاکستان سہ ملکی سیریز کا فاتح
پاکستان نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں 326 رنز کا ہدف 48.3 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر مکمل کیا، جبکہ ابتدائی چار اوورز میں دو وکٹیں گر گئی تھیں۔

سیالکوٹ میں مہندی کی تقریب میں بھگدڑ، ایک ہلاک، 14 سے زائد زخمی
ڈسکہ روڈ پر فراز کرکٹ گراؤنڈ کے دروازے کھلتے ہی افراتفری پھیلی، جہاں ٹک ٹاکر محمد انصار جٹ 50 موٹر سائیکل، ایک گاڑی اور نقد انعامات دینے والے تھے۔

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی مسترد کر دی
ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ معاہدے کی حیثیت بین الاقوامی قانون کے تحت طے ہونی چاہیے، جبکہ اٹارنی جنرل نے بھارت کے خلاف قانونی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

پنجاب میں ڈاکٹروں اور ہسپتال کے عملے کے لیے وردی لازمی قرار
کمیشن کی ہدایت کے مطابق ڈاکٹروں کی وردی نیلی، پیرا میڈیکل عملے کی سبز اور لیبارٹری عملے کے لیے سفید کوٹ مقرر کیا گیا ہے