مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

ایل ایچ سی: آئی آر آئی ایس پر اپ لوڈ محض قانونی نوٹس نہیں

جسٹس مرزا وِقاص رؤف اور جسٹس انوار حسین کے ڈویژن بنچ نے طاہر محمود کی سربراہی میں تین منسلک ریفرنس درخواستوں کا فیصلہ سنایا۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
ایل ایچ سی: آئی آر آئی ایس پر اپ لوڈ محض قانونی نوٹس نہیں

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اپیلٹ حکم نامے کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ان لینڈ ریونیو انفارمیشن سسٹم یعنی آئی آر آئی ایس پر محض اپ لوڈ کر دینا انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت قانونی سروس کے مترادف نہیں۔ یہ اطلاع ڈان نے دی۔

اخبار کے مطابق جسٹس مرزا وِقاص رؤف اور جسٹس انوار حسین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ تین منسلک ریفرنس درخواستوں میں سنایا جن کی سربراہی ٹیکس دہندہ طاہر محمود کر رہے تھے۔

ان درخواستوں میں اپیلٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو کے تین احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ٹریبونل نے ٹیکس دہندگان کی اپیلوں کو میعاد گزر جانے کے باعث مسترد کر دیا تھا، اس بنیاد پر کہ اس کے احکامات ٹیکس محکمے کے الیکٹرانک سسٹم پر اپ لوڈ ہونے کے بعد سروس شدہ سمجھے جائیں گے۔ بنچ نے قرار دیا کہ محض اپ لوڈ کرنا آرڈیننس میں درج سروس کی شرط پوری نہیں کرتا۔

استدلال اس فرق پر کھڑا ہے کہ حکم نامہ پورٹل پر دستیاب ہونا ایک بات ہے اور متعلقہ فریق کو اس کی اطلاع پہنچانا دوسری۔ آئی آر آئی ایس ایف بی آر کا آن لائن پلیٹ فارم ہے جہاں ٹیکس دہندگان گوشوارے جمع کراتے ہیں، نوٹس وصول کرتے ہیں اور کارروائی کی پیروی کرتے ہیں؛ حکم نامہ سسٹم پر موجود رہ سکتا ہے اور ٹیکس دہندہ تک کسی اور ذریعے سے خبر بھی نہ پہنچی ہو۔

سروس ہی قانونی میعادوں کی گھڑی چلاتی ہے۔ کسی حکم نامے کو چیلنج کرنے کی مدت اس تاریخ سے شمار ہوتی ہے جس دن وہ سروس کیا گیا، اور اپیلٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو ٹیکس محکمے کے احکامات کے خلاف اپیلیں سنتا ہے، اس سے پہلے کہ قانونی سوالات ہائی کورٹ پہنچیں۔ جہاں کسی اپیلٹ حکم نامے کو صرف آئی آر آئی ایس پر نمودار ہونے کی وجہ سے سروس شدہ مان لیا گیا ہو، وہاں یہ فیصلہ ایسے ٹیکس دہندگان کو یہ دلیل دیتا ہے کہ اپیل کی مدت شروع ہی نہیں ہوئی تھی، اور جو اپیل دیر سے دائر ہونے کے باعث مسترد ہوئی وہ غلط بنیاد پر مسترد ہوئی۔

ڈان کی رپورٹ میں فیصلے کا مکمل متن، تینوں ریفرنس درخواستوں میں دی گئی ریلیف، یا درخواست گزاروں کے باقی نکات پر بنچ کی استدلال شامل نہیں تھی۔

یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ ان احکامات میں سے ایک ہے جو ٹیکس اور دیوانی مقدمات کے طریقہ کار کے سوالات سے متعلق ہیں۔ ایک الگ مقدمے میں جسٹس انوار حسین نے قرار دیا کہ کسی دیوانی تنازعے کو قرآن مجید پر خصوصی حلف کے ذریعے طے کرنے کی پیشکش، جس کے ساتھ یہ شرط ہو کہ حلف جھوٹا ثابت ہونے پر حلف اٹھانے والے کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی، قانونی پیشکش نہیں، اور یہ حکم محمد اعظم خان کی جانب سے دائر دیوانی نظرثانی میں دیا گیا۔ دونوں مقدمات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔

کھیلپنجاب

فخر زمان کی 127 رنز کی بدولت پاکستان سہ ملکی سیریز کا فاتح

پاکستان نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں 326 رنز کا ہدف 48.3 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر مکمل کیا، جبکہ ابتدائی چار اوورز میں دو وکٹیں گر گئی تھیں۔

سلامتیپنجاب

سیالکوٹ میں مہندی کی تقریب میں بھگدڑ، ایک ہلاک، 14 سے زائد زخمی

ڈسکہ روڈ پر فراز کرکٹ گراؤنڈ کے دروازے کھلتے ہی افراتفری پھیلی، جہاں ٹک ٹاکر محمد انصار جٹ 50 موٹر سائیکل، ایک گاڑی اور نقد انعامات دینے والے تھے۔

سیاستپنجاب

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی مسترد کر دی

ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ معاہدے کی حیثیت بین الاقوامی قانون کے تحت طے ہونی چاہیے، جبکہ اٹارنی جنرل نے بھارت کے خلاف قانونی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

صحتپنجاب

پنجاب میں ڈاکٹروں اور ہسپتال کے عملے کے لیے وردی لازمی قرار

کمیشن کی ہدایت کے مطابق ڈاکٹروں کی وردی نیلی، پیرا میڈیکل عملے کی سبز اور لیبارٹری عملے کے لیے سفید کوٹ مقرر کیا گیا ہے