مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

ایل پی جی کی قیمت میں کمی نہیں، سرکاری اور مارکیٹ نرخ میں 300 روپے کا فرق برقرار

امپورٹرز ایسوسی ایشن نے نومبر میں مزید قیمت بڑھنے اور تفتان بارڈر سے باؤزرز کی آمد 12 روز تک طویل ہونے کے خدشے سے حکومت کو آگاہ کیا ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ

ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی نہیں ہو سکی اور صارفین کو 550 سے 600 روپے فی کلو کی شرح سے گیس خریدنی پڑ رہی ہے، جبکہ سرکاری نرخ اور مارکیٹ قیمت کے درمیان تقریباً 300 روپے فی کلو کا فرق برقرار ہے۔ یہ بات اردو پوائنٹ اور ایکسپریس نیوز کی رپورٹس میں سامنے آئی ہے۔

ایل پی جی امپورٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ سکیورٹی خدشات اور سرحدی راستوں کی بندش کے باعث نومبر میں قیمتیں مزید بڑھنے اور سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ایران سے تفتان بارڈر کے راستے ترسیل جاری ہے، تاہم بلوچستان میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ایل پی جی کے باؤزرز کی آمد سست پڑ گئی ہے۔ پہلے یہ باؤزر تین سے چار روز میں منزل تک پہنچتے تھے، اب 10 سے 12 روز لگ رہے ہیں، اور ایکسپریس نیوز کے مطابق اسی تاخیر کا فائدہ اٹھا کر بعض عناصر من مانی قیمتوں پر گیس فروخت کر رہے ہیں۔

ایل پی جی امپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ مکرم وحید نے کہا کہ حکومت کو کئی ماہ سے سکیورٹی اور سپلائی کے خدشات سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اوگرا حکام سے مذاکرات میں اور تحریری طور پر بھی مسائل کی نشاندہی کی گئی، لیکن تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایل پی جی کی ترسیل کے لیے مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے۔

دوسری جانب ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے اوگرا اور سول ڈیفنس کے چھاپوں کے خلاف آواز اٹھائی اور دو روزہ علامتی ہڑتال کے ذریعے حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کارروائی پلانٹ مالکان کے خلاف کی جانی چاہیے، کیونکہ جب دکاندار کو مہنگی گیس ملے گی تو وہ سستی کیسے فروخت کر سکتا ہے۔ ایسوسی ایشن نے شکایت کی کہ ایک طرف جرمانے کیے جا رہے ہیں تو دوسری طرف ایل پی جی پمپس بھی اٹھا لیے جاتے ہیں۔

قیمتوں کے اضافے نے رکشہ ڈرائیوروں کی مشکلات میں بھی اضافہ کیا ہے۔ ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے رکشہ ڈرائیور عدنان سمیع خان نے کہا کہ اب اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ پورا ایک کلو ایل پی جی ڈلوا سکیں، کبھی 200 اور کبھی 300 روپے کی گیس ڈلوانی پڑتی ہے اور ساری کمائی گیس پر خرچ ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک پولیس روزانہ ہزاروں روپے کے چالان کرتی ہے، دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے، اور ایل پی جی مہنگی ہونے سے دیگر اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اوگرا اور وزارت پٹرولیم کے حکام کی جانب سے تاحال اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات سامنے نہیں آئے۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔