مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

ایم ڈی کیٹ 2026 پاکستان اور ریاض میں منعقد

منٹ مرر کے مطابق ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد امیدواروں نے امتحان دیا، جب کہ لاہور کے چھ مراکز پر امتحان پرامن رہا۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ

پاکستان بھر میں اتوار کو میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج داخلہ ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) 2026 منعقد ہوا۔ منٹ مرر کے مطابق اس امتحان میں ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد امیدواروں نے شرکت کی۔ یہ ٹیسٹ سرکاری اور نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے لازمی ہے۔

ڈیلی ٹائمز نے بتایا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) نے اتوار کو ملک بھر میں اور ریاض میں قائم بین الاقوامی مرکز پر یہ امتحان کامیابی سے منعقد کیا۔ رپورٹ کے مطابق لاہور میں چھ مراکز پر امتحان پرامن طریقے سے مکمل ہوا۔ بیرون ملک امیدواروں کے لیے ریاض میں الگ مرکز قائم کیا گیا تھا۔

ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی سرخی میں لکھا کہ ایم ڈی کیٹ 2026 پاکستان بھر میں مکمل ہوا اور ہزاروں امیدواروں نے امتحان دیا۔ اس اخبار نے امیدواروں کی کل تعداد نہیں بتائی۔ منٹ مرر کے مطابق امیدواروں کی تعداد ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد رہی اور ہزاروں طلبہ نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے امتحان دیا۔

دستیاب رپورٹوں میں ملک بھر کے امتحانی مراکز کی کل تعداد یا صوبہ وار امیدواروں کی تفصیل نہیں دی گئی۔ ریاض کا بین الاقوامی مرکز واحد بیرون ملک مرکز تھا جس کا ذکر رپورٹوں میں موجود ہے۔ لاہور کے چھ مراکز پر امتحان کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

پی ایم اینڈ ڈی سی نے ابھی نتائج کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ یہ امتحان ہر سال ان ہزاروں طلبہ کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے جو طب یا دندان سازی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کامیاب امیدوار ہی اگلے مرحلے میں داخلے کے لیے اہل قرار پاتے ہیں۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ملک میں طبی اور دندان سازی کی تعلیم کا نگراں ادارہ ہے، اور ایم ڈی کیٹ اسی نگرانی کے تحت منعقد ہوتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ امتحانی سوالات یا نتائج کے حوالے سے کوئی مسئلہ پیش آیا یا نہیں، تاہم ڈیلی ٹائمز نے لاہور کے عمل کو پرامن قرار دیا۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔