مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

وزیر نے ڈرپ کو زیرِ التوا ادویات کی قیمتوں کے کیسز آگے بڑھانے کی ہدایت کر دی

اسلام آباد میں جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے احد چیمہ نے کہا کہ قیمتوں کا فارمولا عوام دوست ہونا چاہیے اور درآمد کنندگان یا فارماسیوٹیکل شعبے کے لیے رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
وزیر نے ڈرپ کو زیرِ التوا ادویات کی قیمتوں کے کیسز آگے بڑھانے کی ہدایت کر دی

وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ نے پیر کے روز ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈرپ) کو ہدایت کی کہ زیرِ التوا ادویات کی قیمتوں کے کیسز کو مزید کارروائی کے لیے آگے بڑھایا جائے۔ یہ ہدایت ایسے وقت دی گئی جب اجلاس کو بتایا گیا کہ ان کیسز کا ایک ایک کر کے جائزہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔

وزیر نے اسلام آباد میں ہونے والے اس اجلاس کی صدارت کی جس میں زیرِ التوا قیمتوں کے کیسز اور موجودہ قیمتوں کے فارمولے کا جائزہ لیا گیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق یہ معلومات ایک پریس ریلیز میں دی گئیں، جبکہ ٹیک جوس کی رپورٹ کے مطابق اجلاس 26 اکتوبر کو منعقد ہوا۔

وزیر نے کہا کہ قیمتوں کا فارمولا عوام دوست ہونا چاہیے اور اسے درآمد کنندگان یا فارماسیوٹیکل شعبے کے لیے غیر ضروری رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ ٹیک جوس کے مطابق انہوں نے بین الاقوامی معیارات پر مبنی ایسے نظام کی ضرورت پر زور دیا جو درآمد کنندگان اور کمپنیوں کے لیے بھی قابلِ عمل رہے، اور ڈرپ پر زور دیا کہ وہ آزاد جانچ کے لیے ادویات کی قیمتوں سے متعلق خصوصی ڈیٹا بیس پر غور کرے۔ انہوں نے کہا کہ بلا جواز قیمتوں میں اضافہ قابلِ قبول نہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈرپ موجودہ فارمولے کی ان شقوں کا جائزہ لے رہی ہے جو قیمت کے درست تعین میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ افسران نے بتایا کہ زیرِ التوا کیسز کا ایک ایک کر کے جائزہ مکمل ہونے کے قریب ہے، اور وزیر نے اس پیش رفت کو سراہا۔

ویکسین کے معاملے پر اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ ٹرائیویلنٹ فلو ویکسین مارکیٹ میں کافی مقدار میں دستیاب ہے۔ اسی بنیاد پر ڈرپ نے ویکسین کا ہارڈشپ کیس واپس لے لیا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مسادک ملک، سیکرٹری صحت مومن آغا، ڈرپ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبیداللہ اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

نہ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی پریس ریلیز اور نہ ٹیک جوس کی رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ کتنے قیمتوں کے کیسز ابھی زیرِ التوا ہیں، فارمولے کی کن شقوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، یا یہ عمل کب مکمل ہو گا۔ اجلاس میں کوئی نیا فارمولا یا نئی قیمتوں کی فہرست جاری نہیں کی گئی۔

ادویات کی قیمتیں ڈرپ کے ذریعے مرکزی طور پر طے ہوتی ہیں، اور فارمولے یا انفرادی کیسز کے فیصلوں میں کوئی بھی تبدیلی ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں پر اثر ڈالتی ہے، بشمول گلگت بلتستان جہاں سپلائی قراقرم ہائی وے اور دیگر شمالی راستوں سے پہنچتی ہے۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔