مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے نادرا کی سہولیات میں توسیع، کیو آر کوڈ نیکوپ مرحلہ وار جاری

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ میعاد ختم یا ناجائز نیکوپ کے باعث سفری پابندیوں کا سامنا کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد کا حکومت کے پاس کوئی اندازہ نہیں۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے نادرا کی سہولیات میں توسیع، کیو آر کوڈ نیکوپ مرحلہ وار جاری

بیرون ملک مقیم پاکستانی اب اپنے ملکِ رہائش کے موبائل نمبر کے ذریعے نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ پر اکاؤنٹ بنا سکتے ہیں، جبکہ حکومت نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ کیو آر کوڈ والے نیکوپ کی اجرائی مرحلہ وار جاری ہے اور میعاد ختم یا ناجائز نیکوپ کے سبب کتنے پاکستانیوں کو سفری دشواری پیش آئی، اس کا کوئی اندازہ نہیں دیا گیا۔

وزیرِ داخلہ سینیٹر محسن رضا نقوی نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب جمع کروایا۔ ٹیک جوس کی رپورٹ کے مطابق جب ان سے پوچھا گیا کہ میعاد ختم یا ناجائز نیکوپ سے منسلک سفری پابندیوں سے کتنے بیرونِ ملک پاکستانی متاثر ہوئے ہیں تو انہوں نے کوئی تعداد نہیں بتائی اور کہا کہ یہ سوال نادرا سے متعلق نہیں۔ جواب میں نئی شرائط پر پیدا ہونے والی الجھن دور کرنے کے لیے کوئی مواصلاتی حکمتِ عملی بھی بیان نہیں کی گئی۔

نادرا کے ترجمان سید شہابت علی نے اے آر وائی نیوز کے مطابق کہا کہ نیکوپ یا پاک آئی ڈی پر رجسٹریشن کے لیے پاکستانی موبائل نمبر لازمی نہیں۔ درخواست دہندہ کو اپنے ملکِ رہائش کو منتخب کر کے اسی ملک کا نمبر درج کرنا چاہیے؛ مثال کے طور پر کینیڈا میں مقیم پاکستانی کینیڈا منتخب کر کے اپنا کینیڈین نمبر استعمال کر سکتا ہے۔ نادرا کے مطابق اگر درخواست دہندہ ملکِ قیام کے طور پر پاکستان منتخب کرے تو سسٹم پاکستانی نمبر مانگتا ہے، کیونکہ تصدیق کے لیے ایک بار استعمال ہونے والا پاس ورڈ (او ٹی پی) بھیجا جاتا ہے۔

حکومت نے کیو آر کوڈ والے پولی کاربونیٹ کارڈ کی نئی شکل 23 فروری 2026 کو منظور کی اور اگلے دن 24 فروری 2026 کو نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ اینڈ پاکستان اوریجن کارڈ رولز 2002 میں ترمیم کی گئی۔ نئی شکل پرانے چپ والے کارڈ کی جگہ لے گی۔ ہر کارڈ کے کیو آر کوڈ میں درخواست دہندہ کی محفوظ معلومات بشمول فیملی نمبر موجود ہوتی ہیں، جو پاک آئی ڈی ایپ سے دیکھی جا سکتی ہیں اور اس کے لیے الگ کارڈ ریڈر کی ضرورت نہیں۔

چپ والے کارڈز کے لیے ملک بھر میں ریڈر نیٹ ورک بنانا لاگت اور باہمی مطابقت کے مسائل کے باعث مشکل تھا، اسی لیے نادرا کیو آر نظام کی طرف گیا۔ پولی کاربونیٹ کارڈ زیادہ مضبوط بتائے جاتے ہیں اور ملکی تیاری سے درآمدی کارڈ مواد پر انحصار کم ہونے کی توقع ہے۔

پاکستانی مشنوں میں موجود دس رجسٹریشن مراکز اب نادرا کا پاک آئی ڈی سافٹ ویئر استعمال کرتے ہیں، جس سے نیکوپ کی تجدید کی روزانہ گنجائش بڑھی ہے۔ برطانیہ، سعودی عرب اور دبئی میں ہفتے کے آخر میں موبائل رجسٹریشن آپریشنز چلائے جاتے ہیں تاکہ وہ لوگ بھی فائدہ اٹھا سکیں جو دفتری اوقات میں نادرا آفس نہیں جا سکتے، جبکہ مشنوں کے 25 کاؤنٹرز آن لائن درخواستیں اور عام شناختی خدمات سنبھالتے ہیں۔

9 ستمبر 2025 کے ایس آر او کے تحت متعارف کرائے گئے ڈی میٹیریلائزڈ شناختی کارڈ کے حاملین پاک آئی ڈی ایپ سے ڈیجیٹل اسناد حاصل کر سکتے ہیں جن کی قانونی حیثیت فزیکل کارڈ کے برابر ہے۔ موجودہ سمارٹ شناختی کارڈ، سمارٹ نیکوپ اور سمارٹ پی او سی منتقلی کے دوران کارآمد رہیں گے اور قواعد اور کارڈ مواد کی دستیابی کے مطابق جاری کیے جاتے رہیں گے۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔