قومی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی، پنجاب سرفہرست، بلوچستان سب سے پیچھے
ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ اور خیبر پختونخوا دونوں کی شرح 58 فیصد بتائی گئی ہے مگر سندھ دوسرے اور خیبر پختونخوا تیسرے نمبر پر رکھا گیا، شہری علاقوں میں شرح 74 اور دیہی علاقوں میں 55 فیصد ہے۔
ملک کی قومی شرح خواندگی گزشتہ دو سالوں میں 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی ہے، جس میں پنجاب 68 فیصد کے ساتھ تمام صوبوں میں سرفہرست اور بلوچستان 49 فیصد کے ساتھ سب سے پیچھے ہے۔ یہ اعداد و شمار ایکسپریس نیوز نے شائع کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سندھ دوسرے اور خیبر پختونخوا تیسرے نمبر پر ہے، حالانکہ دونوں صوبوں کی شرح خواندگی ایک ہی، 58 فیصد بتائی گئی ہے۔ بلوچستان کو چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے۔
پنجاب کی شرح 66.25 فیصد سے بڑھ کر 68 فیصد ہوئی، جس میں مردوں کی شرح 75 فیصد اور خواتین کی 62 فیصد ہے۔ سندھ میں شرح 57.54 فیصد سے 58 فیصد ہو گئی، جہاں مردوں کی شرح 68 فیصد اور خواتین کی 47 فیصد ہے۔ خیبر پختونخوا میں شرح 51.09 فیصد سے 58 فیصد تک پہنچی، جس میں 73 فیصد مرد اور 43 فیصد خواتین شامل ہیں۔ بلوچستان میں شرح 42.01 فیصد سے 49 فیصد ہوئی، جہاں مردوں کی شرح 61 فیصد اور خواتین کی 37 فیصد بتائی گئی ہے۔
اردو پوائنٹ نے اپنی رپورٹ کے عنوان میں سندھ کو 58 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رکھا اور بتایا کہ صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 فیصد اور خواتین کی 47 فیصد ہے۔
شہر اور دیہات کا فرق کسی بھی دو صوبوں کے فرق سے بڑا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق ملک بھر میں شہری علاقوں کی مجموعی شرح خواندگی 74 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 55 فیصد ہے۔
رپورٹ میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اور وزارتِ تعلیم کے حوالے سے بتایا گیا کہ ملک میں تعلیمی اداروں کی کل تعداد 342,547 ہے۔
اعداد و شمار سندھ اور خیبر پختونخوا کی ترتیب واضح نہیں کرتے۔ دونوں صوبوں کی شرح ایک ہی بتائی گئی ہے لیکن انہیں دوسرے اور تیسرے نمبر پر رکھا گیا اور اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ کسی بھی رپورٹ میں گلگت بلتستان یا آزاد کشمیر کے لیے الگ شرح خواندگی نہیں دی گئی، اور نہ یہ بتایا گیا کہ یہ شرح کیسے ناپی گئی یا دو سالوں کی تبدیلی کس مدت کے دوران شمار کی گئی۔
ہر صوبے میں خواتین کی شرح خواندگی مردوں سے کم ہے۔ سب سے بڑا فرق بلوچستان میں ہے، جہاں 61 فیصد مرد اور 37 فیصد خواتین پڑھے لکھے شمار کیے گئے، اور سب سے کم فرق پنجاب میں ہے، جہاں یہ تناسب 75 فیصد کے مقابلے 62 فیصد ہے۔
کسی بھی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ صوبائی اعداد و شمار کس سروے یا کس اہلکار سے لیے گئے ہیں، اور نہ یہ کہ یہ ڈیٹا کب جمع کیا گیا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

فخر زمان کی سنچری، 4 ہزار ایک روزہ رنز کا سنگ میل بھی عبور
پاکستان کے بلے باز نے یہ سنگ میل اپنے 97ویں ایک روزہ میچ میں عبور کیا اور 4 ہزار ایک روزہ رنز بنانے والے ملک کے 16ویں بلے باز بن گئے۔