مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

سرکاری تحائف پر نئے توشہ خانہ قواعد جاری

کیبنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن میں کھلی نیلامی، سالانہ آڈٹ اور لائیو کوریج لازمی قرار دی گئی، رقم پسماندہ علاقوں میں بچیوں کی تعلیم پر خرچ ہوگی۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
سرکاری تحائف پر نئے توشہ خانہ قواعد جاری

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سرکاری تحائف کے حصول، جمع کرانے، تشخیص، ذخیرہ اور نیلامی کے ضوابط سخت کرتے ہوئے توشہ خانہ (مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن) رولز 2026 جاری کر دیے۔

کیبنٹ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ نئے قواعد کے تحت صدر اور وزیراعظم کے علاوہ تمام سرکاری عہدیداروں کو ملکی یا غیر ملکی معززین سے تحائف قبول کرنے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق سرکاری وفود میں شامل افراد اور ان کے اہل خانہ کو بھی سرکاری کام کے سلسلے میں تحائف لینے سے گریز کرنا ہوگا۔

اگر سفارتی اصولوں یا ثقافتی حساسیت کی وجہ سے تحفہ لینا ناگزیر ہو تو اسے توشہ خانہ میں جمع کرانا لازم ہوگا۔ عہدیداروں کو تحفہ ملنے کے 30 دن کے اندر یا بیرون ملک دورے سے واپسی کے 30 دن کے اندر جمع کرانا ہوگا۔ الگ سے بھیجے جانے والے تحائف 60 دن میں جمع کرائے جا سکتے ہیں۔ گریڈ 1 سے 4 تک کے ملازمین نقد انعامات اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اگر انکار کرنے سے ناراضی کا خطرہ ہو۔

توشہ خانہ میں موجود تمام پرانے اور نئے تحائف کھلی عوامی نیلامی کے ذریعے فروخت کیے جائیں گے۔ کیبنٹ سیکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی جس میں فنانس، خارجہ، قانون اور ثقافت ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری شامل ہوں گے، طے کرے گی کہ کون سے تحائف نیلام ہوں اور کون سے تاریخی یا خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔

نیلامی کے انعقاد کی مدت کے بارے میں دونوں ذرائع میں اختلاف ہے۔ منٹ مرر نے بتایا کہ نیلامی سال میں دو بار منعقد کرنے کو ترجیح دی جائے گی جبکہ جیو نیوز کے مطابق ہر دو سال بعد ترجیحاً نیلامی ہوگی۔ تاہم دونوں نے بتایا کہ ہر مالی سال میں کم از کم ایک نیلامی لازمی ہوگی۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے ذریعے نیلامی کی لائیو میڈیا کوریج کا انتظام کیا جائے گا۔

سرکاری عہدیدار اور ان کے اہل خانہ نیلامی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ سیٹ کی صورت میں تحائف کو مکمل سیٹ کے طور پر فروخت کیا جائے گا۔ جیو نیوز کے مطابق نوادرات، ثقافتی اور تاریخی اہمیت کی اشیا اور سفارتی طور پر حساس تحائف بشمول غیر ملکی سربراہان مملکت سے ملنے والے، نیلامی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

نیلامی کی رقم ایک الگ کھاتے میں جمع کی جائے گی اور ملک کے پسماندہ ترین علاقوں میں بچیوں کی پرائمری تعلیم پر خرچ کی جائے گی۔ متعلقہ وفاقی وزارت تعلیم یہ کھاتا برقرار رکھے گی اور وزیراعظم کی منظوری سے چھ ماہ کے اندر رقم جاری کرے گی۔ منٹ مرر کے مطابق قواعد میں ہر مالی سال کے دوران تمام تحائف کے فریق ثالث آڈٹ کی شرط بھی شامل ہے۔

تشخیص کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور نجی ویلیوورز اشیا کی قیمت لگائیں گے۔ اگر دونوں کے درمیان 25 فیصد سے زیادہ فرق ہو تو تیسرے ویلیوور کی رائے حتمی مانی جائے گی۔ مصنوعی ذہانت کے منظور شدہ معاون آلات اشاراتی قیمت کے لیے بطور حوالہ استعمال ہو سکتے ہیں اور ہتھیاروں کی قیمت پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ طے کرے گی۔

سیکیورٹی کے تحت بی ایس 20 کا افسر تحائف کی حفاظت اور ریکارڈ کا ذمہ دار ہوگا، اسٹور روم میں سی سی ٹی وی اور تالے لازمی ہوں گے۔ حکومت تمام تحائف کے ریکارڈ اور تصاویر ایک مخصوص ویب پورٹل پر شائع کرے گی لیکن تحفہ دینے والے شخص یا ملک کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ مقررہ مدت میں تحفہ جمع نہ کرانے پر عدالت میں شکایت دائر ہو سکتی ہے۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔