مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

پاسپورٹ فیس میں کمی کا کوئی منصوبہ نہیں، وزارت داخلہ نے سینیٹ کو بتا دیا

وزارت کے مطابق پانچ سال میں پاسپورٹ فیس کی مد میں 219.931 ارب روپے وصول ہوئے، اور ای پاسپورٹ کی تیاری پر مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ سے زیادہ لاگت آتی ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
پاسپورٹ فیس میں کمی کا کوئی منصوبہ نہیں، وزارت داخلہ نے سینیٹ کو بتا دیا

وزارت داخلہ نے سینیٹ کو آگاہ کیا ہے کہ فی الحال پاسپورٹ فیس میں کمی کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں، اور پانچ سال کے دوران پاسپورٹ فیس کی مد میں مجموعی طور پر 219.931 ارب روپے وصول کیے گئے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق یہ تحریری جواب سینیٹ میں سینیٹر محمد طلحہ محمود کے سوال کے جواب میں پیش کیا گیا، جس میں سال بہ سال وصولیوں کی تفصیل دی گئی۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2021-22 میں 21.618 ارب روپے، جبکہ 2022-23 میں 34.495 ارب روپے وصول ہوئے۔

اسی طرح 2023-24 میں پاسپورٹ فیس سے 50.906 ارب روپے اور 2024-25 میں 64.392 ارب روپے حاصل ہوئے، جبکہ 2025-26 کے دوران حکومت نے 48.52 ارب روپے وصول کیے۔

وزارت نے جواب میں فیس میں کمی نہ ہونے کی وجہ بھی بیان کی۔ اس کے مطابق ای پاسپورٹ کی تیاری اور خریداری پر روایتی پاسپورٹ کے مقابلے میں زیادہ لاگت آتی ہے۔ وزارت نے کہا کہ پاکستان بتدریج مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ سے ای پاسپورٹ کے نظام کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جو بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (آئی سی اے او) کے طے کردہ معیارات کے مطابق متعارف کرایا جا رہا ہے۔

سینیٹ میں دیا گیا یہ جواب ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس (ڈی جی آئی پی) نے درخواست دہندگان کے لیے پاسپورٹ فیس کی ادائیگی صرف مقررہ راست کیو آر کوڈ کے ذریعے لازمی قرار دی ہے۔

ایک عوامی نوٹس میں ڈائریکٹوریٹ نے کہا کہ پاسپورٹ فیس صرف مذکورہ راست کیو آر کوڈ اسکین کرنے کے بعد قبول کی جائے گی۔ محکمے نے واضح کیا کہ بین الاقوامی بینک اکاؤنٹ نمبر کے ذریعے انٹر بینک فنڈ ٹرانسفر، یا پاسپورٹ فیس آسان کے ذریعے پیمنٹ سلپ آئیڈنٹیفکیشن (پی ایس آئی ڈی) کے ذریعے کی گئی ادائیگیاں قبول نہیں کی جائیں گی۔

ڈی جی آئی پی کے مطابق ”پاسپورٹ فیس کی ادائیگی صرف راست کیو آر کوڈ اسکین کر کے قبول کی جائے گی“، اور درخواست دہندگان سے کہا گیا ہے کہ وہ صرف مقررہ طریقہ ہی استعمال کریں۔

دونوں اطلاعات مل کر بتاتی ہیں کہ پاسپورٹ کے نظام میں لاگت اور ادائیگی دونوں حوالوں سے سختی کی جا رہی ہے۔ وزارت ای پاسپورٹ کی زیادہ لاگت کی بنیاد پر فیس میں کمی سے انکار کر رہی ہے، جبکہ دستاویز جاری کرنے والا محکمہ ادائیگی کے راستے محدود کر رہا ہے۔

وزارت نے اپنے جواب میں یہ نہیں بتایا کہ ای پاسپورٹ کے نظام کی مکمل منتقلی کب ہو گی، اور نہ ہی یہ کہ لاگت کے فرق کا اثر آئندہ کسی فیس کے تعین پر پڑے گا یا نہیں۔ سینیٹ کو دیے گئے جواب میں صرف وصولیوں کے مجموعی اعداد و شمار دیے گئے، ہر سال جاری کیے گئے پاسپورٹس کی تعداد یا ای پاسپورٹ اور مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کے حصوں کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

سینیٹر طلحہ محمود کا سوال سینیٹ کے موجودہ اجلاس میں وزارت کی جانب سے تحریری جوابات دیے گئے سوالات میں شامل تھا۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔