مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کا کوئی قابلِ اعتماد قومی ڈیٹا نہیں، ایچ آر سی پی

کمیشن کی رپورٹ میں مظفرگڑھ کے 2025ء کے کیس کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں کم از کم 50 بچے مبینہ طور پر بین الاقوامی نیٹ ورک کا نشانہ بنے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ

پاکستان میں بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے واقعات کی مکمل تعداد معلوم کرنے کے لیے کوئی قابلِ اعتماد قومی ڈیٹا بیس موجود نہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے ایک رپورٹ میں یہ بات کہی ہے اور خبردار کیا ہے کہ کمزور رپورٹنگ، اداروں کے درمیان رابطے کی کمی اور متاثرہ بچوں کی حفاظت کے ناکافی انتظامات کے باعث بیشتر واقعات سامنے ہی نہیں آتے۔ یہ رپورٹ ایکسپریس نیوز نے شائع کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کو صرف سائبر کرائم کا معاملہ سمجھنے کے بجائے بچوں کے بنیادی حقوق اور ان کے تحفظ کا مسئلہ قرار دینا چاہیے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ قابلِ اعتماد قومی ڈیٹا کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس مسئلے کی اصل وسعت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔

رپورٹ میں 2025ء میں مظفرگڑھ سے سامنے آنے والے ایک کیس کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں کم از کم 50 بچوں کو، جن میں چھ سال یا اس سے کم عمر کے بچے بھی شامل ہیں، مبینہ طور پر ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے ذریعے جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔

کمیشن نے امریکی ادارے نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلائٹڈ چلڈرن کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان سے منسلک مشتبہ بچوں کے جنسی استحصال کے مواد سے متعلق اطلاعات کی تعداد 2021ء میں 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تعداد متاثرہ بچوں کی نہیں بلکہ ڈیجیٹل سرگرمیوں سے متعلق موصول ہونے والی اطلاعات کی ہے، اور جو واقعات سامنے آتے ہیں وہ مسئلے کا صرف ایک حصہ ہیں۔

ایچ آر سی پی نے سفارش کی ہے کہ بچوں کے تحفظ سے متعلق اداروں، پولیس، سائبر کرائم کی تحقیقات کرنے والے اداروں، استغاثہ اور عدلیہ کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کیا جائے، اور ملزمان کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ جن بچوں کو استحصال کا نشانہ بنایا گیا انہیں قانونی، نفسیاتی اور بحالی کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

کمیشن کے مطابق محض آگاہی مہمات کافی نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر نظام، ادارہ جاتی جواب دہی اور انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کی ذمہ داریوں کا واضح تعین بھی ضروری ہے، تاکہ واقعات بروقت سامنے آئیں اور عدالتوں تک پہنچ سکیں۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔