سامان کی تاخیر پر پی اے اے نے آٹھ ایئرلائنز پر جرمانہ عائد کیا
یہ جرمانے یکم جولائی سے 15 اگست کے دوران ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر سامان کی ترسیل میں تاخیر کے 19 واقعات پر عائد کیے گئے۔

اسلام آباد: پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر مسافروں کے سامان کی ترسیل میں تاخیر پر آٹھ ایئرلائنز پر مجموعی طور پر 16 لاکھ 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔
ٹیک جوس اور پرو پاکستانی کی رپورٹ کے مطابق اتھارٹی نے یکم جولائی سے 15 اگست کے درمیان سامان کی ترسیل میں تاخیر کے 19 واقعات درج کیے۔ پی اے اے کا کہنا ہے کہ مسافروں کو بار بار اپنے سامان کے حصول میں تاخیر کا سامنا کرنے پر یہ جرمانے عائد کیے گئے۔
اتھارٹی نے تمام ایئرلائنز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سامان کی بروقت ترسیل یقینی بنائیں اور مقررہ سروس معیارات پر عمل کریں۔ پی اے اے کے مطابق یہ جرمانے مسافروں کی سہولتوں میں بہتری اور سروس میں کوتاہیوں پر ایئرلائنز کو جوابدہ ٹھہرانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔
پی اے اے نے کہا کہ وہ ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر مسافروں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ معیارات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
پرو پاکستانی نے واضح کیا کہ یہ واقعات 2026 میں پیش آئے، جب کہ ٹیک جوس کی رپورٹ میں سال کا ذکر نہیں کیا گیا۔ کسی بھی رپورٹ میں جرمانے کی زد میں آنے والی ایئرلائنز کے نام یا جرمانوں کی تقسیم نہیں بتائی گئی۔
رپورٹس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ تاخیر کے واقعات کن ہوائی اڈوں پر پیش آئے یا کسی ایئرلائن نے جرمانے کے خلاف اپیل کی ہے یا نہیں۔
پی اے اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایئرلائنز کو مسافروں کی مشکلات کم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اتھارٹی نے کہا کہ تمام ایئرلائنز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مقررہ معیارات پورے کریں اور سامان کی ترسیل کا عمل تیز کریں۔
اتھارٹی نے یہ نہیں بتایا کہ اگر تاخیر جاری رہی تو مزید جرمانے عائد ہوں گے یا نہیں، تاہم اس نے واضح کیا کہ پاکستانی ہوائی اڈوں پر کام کرنے والی ایئرلائنز کے لیے سروس معیارات پر عمل لازمی ہے۔
یہ کارروائی یکم جولائی سے پندرہ اگست تک کی چھ ہفتوں کی مدت پر محیط ہے۔ اتھارٹی نے کہا کہ یہ واقعات گراؤنڈ ہینڈلنگ اور مسافر خدمات کی نگرانی کے دوران ریکارڈ کیے گئے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔