مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

پاکستان، بنگلہ دیش نے زرعی شراکت پر روم میں مذاکرات کیے

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے ایف اے او کانفرنس کے موقع پر بنگلہ دیشی وزرا سے تجارت، تحقیق اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے پر تبادلہ خیال کیا۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
پاکستان، بنگلہ دیش نے زرعی شراکت پر روم میں مذاکرات کیے

پاکستان اور بنگلہ دیش نے زراعت، لائیو اسٹاک، ماہی گیری اور موسمیاتی موافقت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ روم میں اقوام متحدہ کی خوراک اور زراعت کی کانفرنس کے موقع پر وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے بنگلہ دیش کے وزیر ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی عبدالاول منٹو اور وزیر مملکت برائے ماہی گیری و لائیو اسٹاک سلطان صلاح الدین ٹوکو سے ملاقات کی۔

ملاقات میں دو زرعی معیشتوں کو درپیش مشترکہ مسائل پر توجہ دی گئی جن میں موسمیاتی تبدیلی، نئی بیماریاں اور ماحولیاتی دباؤ شامل ہیں۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کے شعبوں میں قریبی تعاون غذائی تحفظ کو مضبوط بنا سکتا ہے، دیہی معاش کو تحفظ دے سکتا ہے اور کاشتکار برادریوں کی لچک بہتر کر سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے زرعی تجارت، تحقیق، مشینری، مویشیوں کی نسلوں کی بہتری اور صلاحیت سازی کو ایسے شعبے قرار دیا جہاں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ادارہ جاتی شراکت، فنی تبادلوں اور زرعی و ویٹرنری سائنس میں مشترکہ کام کے مواقع بھی اجاگر کیے اور کہا کہ پاکستان باہمی احترام، خودمختار مساوات اور مشترکہ ترقیاتی ترجیحات پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔

عبدالاول منٹو نے موسمیاتی اور ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ علم اور عملی تجربے کا تبادلہ موسمیاتی لچک اور پائیدار زرعی نظام کو فروغ دے سکتا ہے۔ سلطان صلاح الدین ٹوکو نے کہا کہ ماہی گیری اور لائیو اسٹاک غذائی تحفظ، غذائیت اور دیہی معاش کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، اور لائیو اسٹاک کی ترقی، بہتر پیداواری نظام، بیماریوں سے بچاؤ، تحقیق اور تکنیکی صلاحیت سازی میں تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق دونوں فریقوں نے موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والی لائیو اسٹاک پیداوار، بہتر چارے اور خوراک کے نظام، بیماریوں کی نگرانی، اینٹی مائیکروبیل مزاحمت، غذائی حفاظت اور ویلیو ایڈیشن پر بھی بات چیت کی۔ رپورٹس میں کسی دستخط شدہ معاہدے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

اے آر وائی نیوز نے مزید بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ اگلے دو سال میں زرعی اور غذائی برآمدات 3 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے بات چیت کی تھی جو اسلام آباد میں 26 سے 28 اگست تک ہوئی۔ ان مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت رانا تنویر حسین اور سعودی وفد کی قیادت وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمن الفضلی نے کی۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔