مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

پاکستان نے تائیوان کی ایئرلائنز کے لیے فضائی حدود بند کر دیں

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بلومبرگ کو بتایا کہ ایوی ایشن ڈویژن ون چائنا پالیسی پر عمل کرتا ہے اور پاکستان کے اوپر پرواز کی اجازت صرف سرزمین چین کی ایئرلائنز کو ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
پاکستان نے تائیوان کی ایئرلائنز کے لیے فضائی حدود بند کر دیں

اسلام آباد: پاکستان نے تائیوان کی فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے بلومبرگ نیوز کو بتایا کہ ملک کے اوپر پرواز کی اجازت صرف سرزمین چین کی ایئرلائنز کو ہے۔

خواجہ آصف کے مطابق، "ایوی ایشن ڈویژن ون چائنا پالیسی پر عمل کرتا ہے، صرف سرزمین چین کو اجازت ہے۔" انہوں نے کہا، "ہم نے صرف چینی ایئرلائنز کو پاکستان کے اوپر پرواز کی اجازت دی ہے۔"

بلومبرگ نے بدھ کو یہ رپورٹ شائع کی، جو بزنس ریکارڈر نے بھی چھاپی۔ رپورٹ میں اس اقدام کو کسی بھی ملک کی جانب سے اپنی نوعیت کا پہلا قدم قرار دیا گیا۔ پاکستان کے ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے الگ کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی اور دستاویزات میں صرف خواجہ آصف کا بلومبرگ کو دیا گیا بیان ہی سرکاری موقف کے طور پر موجود ہے۔

بلومبرگ کے مطابق تائیوان کی ایئرلائنز نے ہفتے کے روز سے اپنے رستے بدلنا شروع کیے۔ رپورٹ میں فلائٹ ریڈار 24 کے ڈیٹا کے حوالے سے بتایا گیا کہ چائنا ایئرلائنز لمیٹڈ اور ایوا ایئرویز کارپوریشن 25 اکتوبر کی صبح کے بعد سے پاکستان کے اوپر نہیں گزریں، اور اتوار کے بعد سے ایشیا اور یورپ کے درمیان ان کی کم از کم ایک درجن پروازیں روس کے راستے سے گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تائیوان کے سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے رستے بدلنے کے معاملے پر تبصرہ نہیں کیا، تاہم کہا کہ اس نے اپنی ایئرلائنز کو کبھی روس کے اوپر پرواز سے نہیں روکا۔ ڈیلی پاکستان نے بھی یہ خبر چھاپی اور اس فیصلے کو چین کی حمایت کا مظاہرہ قرار دیا۔

پاکستان ہمیشہ سے ون چائنا پالیسی پر عمل کرتا رہا ہے اور تائیوان کو عوامی جمہوریہ چین کا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے۔ اسلام آباد اس موقف کو اپنی خارجہ پالیسی اور بیجنگ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا بنیادی حصہ بتاتا ہے۔ پاکستانی حکومتوں نے تائیوان کی آزادی کے مطالبات کو مسترد کیا اور "دو چین" یا "ایک چین، ایک تائیوان" جیسی تجاویز کی مخالفت کی ہے۔

یہ موقف ریاستی سطح پر بھی دہرایا جاتا رہا ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف دونوں اسے واضح کر چکے ہیں۔ اسلام آباد نے بین الاقوامی اداروں میں تائیوان کی شرکت کے خلاف بیجنگ کے موقف کی بھی حمایت کی ہے اور عالمی ادارہ صحت کی سالانہ اسمبلی میں تائیوان کو مدعو کرنے کی تجویز کی مخالفت کی تھی۔

اس رستے کی تبدیلی کا اثر ایشیا اور یورپ کے درمیان ان طویل فاصلے کی پروازوں پر پڑا ہے جو پہلے پاکستان کی فضائی حدود سے گزرتی تھیں۔ رپورٹس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ پابندی باضابطہ طور پر کب سے نافذ ہے اور نہ یہ کہ پاکستان کے سول ایوی ایشن حکام نے غیر ملکی ایئرلائنز کو کوئی تحریری اطلاع دی ہے یا نہیں۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔