مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

پاکستان شنگھائی میں قائم مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کا بانی رکن بن گیا

اردو پوائنٹ کے مطابق نئی تنظیم کا صدر دفتر شنگھائی میں ہوگا اور پہلا اجلاس دسمبر میں ہوگا، تاہم کسی پاکستانی وزارت کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ

پاکستان مصنوعی ذہانت میں تعاون کے فروغ کے لیے قائم کی گئی ایک بین الاقوامی تنظیم کا بانی رکن بن گیا ہے۔ اردو پوائنٹ کی رپورٹ کے مطابق اس تنظیم کا صدر دفتر شنگھائی میں قائم ہوگا اور اس کا پہلا اجلاس دسمبر میں منعقد ہوگا۔

منگل کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں نہ تنظیم کا نام بتایا گیا، نہ دیگر بانی ارکان کی فہرست دی گئی اور نہ یہ واضح کیا گیا کہ بانی دستاویز پر کب دستخط ہوئے۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ پاکستان کی جانب سے کس وزارت یا کس اہلکار نے دستخط کیے، اور نہ یہ کہ رکنیت کے ساتھ کون سی مالی یا فنی ذمہ داریاں وابستہ ہیں۔

رپورٹ کے ساتھ وزارت خارجہ، وزارت اطلاعات و ٹیکنالوجی یا وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا، اور منگل کی شام تک بھی ایسا کوئی بیان دستیاب نہیں تھا۔

سکردو ٹائمز آزادانہ طور پر پاکستان کی اس رکنیت، صدر دفتر کے مقام یا دسمبر میں ہونے والے اجلاس کی تاریخ کی تصدیق نہیں کر سکتا۔

رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ تنظیم کے دائرہ کار میں کیا کچھ شامل ہوگا، یعنی آیا یہ معیارات اور تحفظ کے امور دیکھے گی، تحقیقی تعاون کو فروغ دے گی یا کمپیوٹنگ کی سہولیات کے اشتراک پر کام کرے گی۔ اس میں یہ اشارہ بھی نہیں دیا گیا کہ پاکستان کسی گورننگ کونسل میں نشست پائے گا یا تنظیم میں کوئی عہدہ سنبھالے گا۔

اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ تنظیم کے ارکان کی تعداد کتنی ہے، یا خطے کے کسی اور ملک نے اس میں شمولیت اختیار کی ہے یا نہیں۔

سرکاری تصدیق، اگر ہوتی ہے، عام طور پر دفتر خارجہ یا وزارت اطلاعات و ٹیکنالوجی کی جانب سے جاری کی جاتی ہے۔ تب تک اس رکنیت کا واحد ذریعہ اردو پوائنٹ کی رپورٹ ہے، اور جو تفصیلات اس میں موجود نہیں، وہی یہ بتاتیں کہ اس رکنیت سے پاکستان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

اگر دسمبر کے اجلاس کا یہ شیڈول برقرار رہا تو پہلے اجلاس میں مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔