پاکستان کا افغان طالبان سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ
وزارت اطلاعات نے اقوام متحدہ اور امریکی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین پر 4 ہزار سے 6 ہزار تک ٹی ٹی پی جنگجو موجود ہیں اور کابل کو ٹھوس جواب دینا ہوگا۔
اسلام آباد: پاکستان نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اس نے افغان طالبان حکومت کے حالیہ بیانات کا نوٹس لیا ہے اور انہیں توجہ ہٹانے والے الزامات قرار دیتے ہوئے ان گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جو مبینہ طور پر افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو موردِ الزام ٹھہرانا افغان حکومت کو اس ذمہ داری سے بری نہیں کرتا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ وزارت کے مطابق ”پاکستان کے تحفظات محض قیاس آرائی پر مبنی نہیں ہیں“۔
بیان میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی سولہویں رپورٹ (S/2025/796) اور امریکی لیڈ انسپکٹر جنرل کی آپریشن اینڈیورنگ سینٹینل رپورٹ برائے جنوری تا مارچ 2026 کا حوالہ دیا گیا۔ وزارت کے مطابق امریکی رپورٹ میں کہا گیا کہ افغان طالبان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان سرزمین سے کام کرنے کی اجازت جاری رکھی اور اس گروہ کو طالبان کی حمایت اور زیادہ آزادی نے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ کیا۔
وزارت نے بتایا کہ اس رپورٹ میں ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی تعداد 4 ہزار سے 6 ہزار بتائی گئی ہے، اور یہ جائزے افغان سرزمین پر موجود پناہ گاہوں اور حمایتی نیٹ ورکس کے بارے میں پاکستان کے تحفظات کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہیں۔
وزارت نے کہا کہ یہ دعویٰ کہ افغانستان میں نہ صلاحیت ہے نہ دلچسپی کہ وہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرے، ان دستاویزی تحفظات کا جواب نہیں دیتا۔ بیان کے مطابق پاک افغان سرحد پار کرنے کی مسلح عناصر کی بار بار کوششیں، پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں افغان شہریوں اور دہشت گرد گروہوں کے ارکان کی ہلاکتیں، اور دہشت گردوں سے غیر ملکی ساخت کے ہتھیاروں کی برآمدگی، سب سنجیدہ جانچ کے متقاضی ہیں۔
پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے عہدیداروں، بشمول قندھار کے عہدیداروں، کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سہولت کاری پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ وزارت نے کہا کہ ”ایسے تحفظات کو یکسر تردید سے رد نہیں کیا جا سکتا، ان کے لیے معتبر وضاحت اور قابلِ تصدیق کارروائی درکار ہے“۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے سکیورٹی اقدامات دہشت گردانہ خطرات کے خلاف ہیں، افغان عوام کے خلاف نہیں۔ وزارت نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹی ٹی پی، بلوچستان لبریشن آرمی اور ان کے ملحقہ گروہوں سمیت کسی بھی تنظیم کی حمایت، سہولت کاری یا برداشت ختم کرے اور یقینی بنائے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی یا عمل میں استعمال نہ ہو۔
وزارت کے مطابق پاکستان اپنے شہریوں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا، اور باہمی احترام، قابلِ تصدیق وعدوں اور ٹھوس کارروائی کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رابطے کے لیے کھلا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے میں امن صرف اس صورت میں قائم رہ سکتا ہے جب افغان طالبان حکومت افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے بارے میں پاکستان کے بنیادی تحفظ کا قابلِ تصدیق ازالہ کرے۔
عرب نیوز نے اس بیان کو یوں رپورٹ کیا کہ اسلام آباد نے افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال کے تسلسل کی صورت میں مزید کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق 2021 میں طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد پاکستان، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار دہشت گردانہ واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اور ستمبر 2026 میں 12 برسوں کے دوران ایک ماہ میں سب سے زیادہ حملے ریکارڈ کیے گئے۔
علیحدہ طور پر وزارت کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے ایکس پر ذلمے خلیل زاد کے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا کہ پاکستان سابق افغان باشندوں کو طالبان اور ان کے حمایتی گروہوں کے خلاف مسلح کر رہا ہے۔ وزارت نے کہا کہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو افغان شہری بھرتی کرنے یا افغانستان کے اندر مسلح گروہوں کی سرپرستی کے الزامات سے جوڑنا گمراہ کن ہے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔