پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکی کا علاقائی سلامتی پر رابطہ جاری رکھنے کا عہد
دی نیوز انٹرنیشنل اور انادولو ایجنسی دونوں نے چار ملکوں کے اس عہد کی اطلاع دی ہے، تاہم کسی رپورٹ میں مقام، تاریخ یا عہد کی سطح واضح نہیں کی گئی۔
پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکی نے علاقائی سلامتی کے معاملے پر باہمی مکالمہ اور تعاون جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔ یہ اطلاع دی نیوز انٹرنیشنل اور ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو نے دی ہے۔
دونوں ذرائع ابلاغ نے چار ملکوں کے اسی گروپ کا ذکر کیا، تاہم اس ڈیسک کو دستیاب رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ عہد کہاں اور کب ظاہر کیا گیا، کس سطح پر (سربراہانِ مملکت، وزرا یا افسران) اور اس کی صحیح نوعیت کیا تھی۔ دی نیوز نے اسے ”علاقائی سلامتی پر مسلسل مکالمہ“ جبکہ انادولو نے ”علاقائی سلامتی پر مسلسل تعاون“ کے الفاظ میں بیان کیا۔ کسی رپورٹ میں کسی نامزد اہلکار کا حوالہ نہیں دیا گیا اور نہ مشترکہ بیان یا اعلامیے کا کوئی متن دستیاب ہوا۔
سکردو ٹائمز ان دونوں شائع شدہ سرخیوں سے آگے کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
پاکستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد بلوچستان سے گزرتی ہے، جبکہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ اسلام آباد کے قریبی سفارتی اور دفاعی تعلقات رہے ہیں۔ پاک ایران سرحد کی سلامتی، خلیج اور بحیرہ عرب میں سمندری سلامتی اور مجموعی علاقائی صورتحال ان چاروں دارالحکومتوں کے رابطوں میں بار بار زیرِ بحث آتی رہی ہیں۔
مقام، تاریخ اور سطح واضح نہ ہونے کی وجہ سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ عہد کسی مخصوص ملاقات کے بعد کیا گیا، پہلے سے طے شدہ کسی انتظام کا اعادہ تھا، یا ہر دارالحکومت میں الگ الگ بیانات کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ کوئی فالو اپ ملاقات طے ہوئی ہے یا چاروں ملک ان رابطوں کو باقاعدہ شکل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اس رپورٹ کی تیاری کے وقت اسلام آباد کی جانب سے اس مفاہمت کا اپنا بیان سامنے نہیں آیا تھا اور وزارتِ خارجہ کا موقف حاصل نہیں ہو سکا۔
اگر ان ذرائع ابلاغ کی مزید تفصیلی رپورٹس سامنے آئیں یا وزارتِ خارجہ کوئی بیان جاری کرے تو یہ رپورٹ اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔