مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

پاکستان پوسٹ نے دو سال میں 6.83 ملین یادگاری ڈاک ٹکٹ چھاپے

ڈاک محکمے نے 2024 سے 2026 کے دوران 54 ڈاک ٹکٹ اور 19 یادگاری شیٹس جاری کیں، جن میں قومی دن، شخصیات اور ورثہ شامل ہیں۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
پاکستان پوسٹ نے دو سال میں 6.83 ملین یادگاری ڈاک ٹکٹ چھاپے

پاکستان پوسٹ نے 2024 سے 2026 کے دوران 6.83 ملین یادگاری ڈاک ٹکٹ اور 220,000 یادگاری شیٹس چھاپیں۔ یہ اعداد و شمار ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے جاری کیے۔

محکمے کے سالانہ یادگاری پروگرام کے تحت اس دوران 54 ڈاک ٹکٹ اور 19 یادگاری شیٹس جاری کی گئیں۔ پروگرام کا مقصد قومی دنوں، اہم شخصیات، ثقافتی اور قدرتی ورثے، سماجی شعور اور پاکستان کے بین الاقوامی اور سفارتی تعلقات کو اجاگر کرنا تھا۔

یادگاری ڈاک ٹکٹ پاکستان پوسٹ کی پوسٹل اور فلاسفی سروس کا باقاعدہ حصہ ہیں۔ یہ قومی مواقع اور شخصیات کا ریکارڈ فراہم کرتے ہیں اور جمع کرنے والوں اور عوام کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ میں انفرادی ڈاک ٹکٹوں کی چھپائی یا فروخت کی تعداد کی تفصیل نہیں دی گئی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ 54 ڈاک ٹکٹوں میں کن قومی دنوں یا شخصیات کو شامل کیا گیا۔

پاکستان پوسٹ ہر سال یادگاری پروگرام چلاتا ہے، جس میں ملک کی تاریخ، جغرافیہ اور عوامی زندگی سے موضوعات منتخب کیے جاتے ہیں۔ ڈاک ٹکٹ اور یادگاری شیٹس ڈاکخانوں اور فلاسفی بیورو کے ذریعے تقسیم کیے جاتے ہیں۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔