پاکستان ریلوے کا تین ماہ کی ایمرجنسی کا اعلان، 172 انجنوں کی مرمت کا منصوبہ
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ فیصلہ بڑھتے ہوئے ریل حادثات کے باعث کیا گیا، جبکہ نیشن کے مطابق 172 انجنوں کی ہنگامی مرمت کی جائے گی۔
پاکستان ریلوے نے تین ماہ کی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے اور 172 انجنوں کی ہنگامی مرمت کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ اطلاع دو اخباری رپورٹس میں دی گئی ہے، جن کے مطابق سرکاری ادارہ ریلوے حادثات میں اضافے کے بعد یہ اقدام کر رہا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ریلوے نے بڑھتے ہوئے ریل حادثات کے پیش نظر تین ماہ کی ایمرجنسی نافذ کی ہے۔ رپورٹ میں حادثات، ہلاکتوں یا ریلوے سروس میں خلل کے اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔
نیشن کی رپورٹ کے مطابق ادارہ 172 انجنوں کی ہنگامی مرمت کرے گا۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان میں سے کتنے انجن اس وقت خراب ہیں، کتنے چل رہے ہیں، اور مرمت پر کتنا خرچ آئے گا۔
شائع شدہ رپورٹس میں سے کسی میں بھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حکم نامہ کس افسر نے جاری کیا، وہ کب سے نافذ ہوا، مرمت کس ڈویژن یا روٹ پر ہوگی، یا کام شروع ہو چکا ہے یا نہیں۔ وزارتِ ریلوے کی طرف سے کوئی نوٹیفکیشن یا بیان بھی اس خبر کے ساتھ موجود نہیں تھا، اور سکردو ٹائمز ایمرجنسی کے اعلان یا مرمت کے منصوبے کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
دونوں رپورٹس کو ملا کر دیکھا جائے تو اقدام دو حصوں پر مشتمل معلوم ہوتا ہے: تین ماہ کے لیے ایمرجنسی کا اعلان، اور 172 انجنوں پر محیط مرمت کا پروگرام۔ ایکسپریس ٹریبیون کی سرخی میں ایمرجنسی اور اس کا سبب بننے والے حادثات کو نمایاں کیا گیا ہے، جبکہ نیشن کی سرخی میں مرمت کے منصوبے کو۔
پاکستان ریلوے ملک کی مسافر اور مال بردار ریلوے سروس چلانے والا وفاقی ادارہ ہے، جس کی گاڑیاں کراچی سے پنجاب اور خیبر پختونخوا ہوتے ہوئے پشاور تک اور بلوچستان تک جاتی ہیں۔ دستیاب انجنوں کی تعداد ہی طے کرتی ہے کہ کتنی گاڑیاں چل سکیں گی اور ٹائم ٹیبل برقرار رہے گا یا نہیں، اس لیے اس حجم کا مرمتی پروگرام مسافروں پر براہِ راست اثر ڈالے گا۔
آپریشنل تفصیلات شائع نہ ہونے کی وجہ سے یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ عملی طور پر کیا اثر پڑے گا، یعنی کیا گاڑیاں منسوخ ہوں گی، شیڈول کم ہوگا، مال گاڑیوں کی آمدورفت محدود ہوگی یا کرایوں میں تبدیلی آئے گی۔
ریلوے نیٹ ورک پر حادثات میں اضافہ ایسے ادارے پر دباؤ ڈالتا ہے جو ہر سال لاکھوں مسافروں کو سفر کرواتا ہے اور جس کے پرانے انجن اور پٹری طویل عرصے سے سرکاری جائزوں کا موضوع رہے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ تین ماہ کی مدت میں کیا کیا جائے گا اور اس کے بعد کیا ہوگا۔
سرکاری نوٹیفکیشن اور بیانات سامنے آنے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔