پاکستان کا نیا ڈرون معاہدہ ٹرمپ نواز کمپنی کے ساتھ
الجزیرہ کے مطابق یہ کمپنی پہلے ہی بھارت کو ڈرون فروخت کرتی ہے اور اس کے شریک بانی سابق اسرائیلی فوجی ہیں۔
پاکستان نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ ایک کمپنی کے ساتھ ڈرون کا نیا معاہدہ کیا ہے، اور وہ کمپنی پہلے ہی بھارت کو ڈرون فروخت کرتی ہے۔ یہ اطلاع الجزیرہ نے 23 ستمبر کو دی۔
الجزیرہ نے مرکزی رپورٹ میں لکھا کہ پاکستان کا تازہ ترین ٹرمپ داؤ ایک ایسی ڈرون کمپنی پر ہے جو پہلے ہی بھارت کو فروخت کرتی ہے۔ MSN پر شائع شدہ ورژن کے مطابق پاکستان کا نیا ڈرون معاہدہ ٹرمپ کی حمایت یافتہ کمپنی کے ساتھ ہے جو بھارت کو بھی فروخت کرتی ہے۔ کسی بھی رپورٹ میں کمپنی کا نام، معاہدے کی مالیت، مدت یا ڈرون کی اقسام نہیں بتائی گئیں۔
MSN پر شائع شدہ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کمپنی کے شریک بانی سابق اسرائیلی فوجی ہیں، اور یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ معاہدہ کرتے وقت پاکستانی حکام کو شریک بانی کے پس منظر کا علم تھا یا نہیں، اور نہ ہی حکومت نے کمپنی سے یہ معاملہ اٹھایا۔
ٹرمپ کا حوالہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کمپنی کو سابق صدر کے کاروباری یا سیاسی حلقوں کی حمایت حاصل ہے، تاہم رپورٹوں میں اس حمایت کی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔ الجزیرہ نے اس معاہدے کو پاکستان کا تازہ ترین ٹرمپ داؤ قرار دیا، لیکن سکردو ٹائمز کو دستیاب مواد میں مزید ذرائع فراہم نہیں کیے گئے۔
رپورٹوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ معاہدہ خریداری ہے، مشترکہ منصوبہ ہے یا ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور نہ ہی پاکستان کا کون سا ادارہ اس میں شامل ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ معاہدہ حتمی ہے یا محض اصولی منظوری دی گئی ہے۔
کمپنی کے بھارت کو فروخت کرنے کا انکشاف اس لیے اہم ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان عسکری اور سیاسی کشیدگی رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے صارفین رکھنے والے دفاعی سپلائرز کو عام طور پر ٹیکنالوجی کی حفاظت اور استعمال کے بارے میں سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس کہانی کی فائلنگ تک پاکستانی حکومت، مسلح افواج یا کمپنی کی جانب سے کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا تھا، اور سکردو ٹائمز آزادانہ طور پر معاہدے، کمپنی کی بھارت کو فروخت یا شریک بانی کے پس منظر کی تصدیق نہیں کر سکا۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔