پاکستان اور سعودی عرب تیل، ریفائنری اور معدنیات میں تعاون بڑھانے پر متفق
پیٹرولیم ڈویژن کے بیان کے مطابق دونوں ملک ذخیرے، خام تیل اور ایل پی جی کی خریداری پر مل کر کام کریں گے، جبکہ سعودی عرب نے اسلام آباد میں اسی دن ویزا کی سہولت کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب نے جمعے کے روز تیل کے ذخیرے، ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، خام تیل اور مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی خریداری اور معدنیات کے شعبے میں اسٹریٹجک تعاون مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ بات پیٹرولیم ڈویژن کے بیان کے حوالے سے ڈان نے بتائی۔
بیان کے مطابق اس تعاون کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان معاشی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ بیان میں خام تیل یا ایل پی جی کی مقدار، سرمایہ کاری، کون سی ریفائنریاں اپ گریڈ کی جائیں گی یا کون سے معدنی منصوبے زیرِ غور ہیں، کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
اسی اعلان میں سعودی عرب نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں اپنے سفارت خانے میں پاکستانی شہریوں کے لیے اسی دن ویزا جاری کرنے کا عمل فوری طور پر شروع کر رہا ہے۔ رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس سہولت کی کیا شرائط ہیں، کیا یہ پاکستان میں سعودی عرب کے دیگر قونصل خانوں پر بھی لاگو ہوگی، اور نہ یہ واضح کیا گیا کہ یہ کن اقسام کے ویزوں پر لاگو ہوگی، یعنی کام، وزٹ، عمرہ اور حج کے ویزے اس میں شامل ہیں یا نہیں۔
ڈان نے بتایا کہ پاکستان خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے لیے ملکی ذخیرے کی گنجائش بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ توانائی کی حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے، اور فی الحال ملک کے پاس کوئی اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخیرہ موجود نہیں ہے۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سعودی عرب کے ساتھ ذخیرے کے حوالے سے تعاون کس شکل میں ہوگا۔
کسی بھی رپورٹ میں ان عہدیداروں کے نام نہیں بتائے گئے جنہوں نے بات چیت کی، نہ یہ کہا گیا کہ یہ کہاں ہوئی، اور نہ ریفائنری اور معدنیات سے متعلق امور پر عمل درآمد کے لیے کوئی وقت دیا گیا۔
معدنیات کا شعبہ پاکستان کی معاشی ڈپلومیسی میں بار بار زیرِ بحث آتا رہا ہے، تاہم پیٹرولیم ڈویژن کے جس بیان کو رپورٹ کیا گیا اس میں کسی مخصوص منصوبے، معدنیات یا کمپنی کا نام نہیں لیا گیا۔ تیل اور ریفائنری سے متعلق امور بھی صرف عمومی الفاظ میں بیان کیے گئے، اور یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا نئے سپلائی معاہدے، اپ گریڈیشن کی مالی معاونت یا مشترکہ منصوبے زیرِ غور ہیں۔
دی ڈپلومٹک ان سائٹ نے بھی اسی پیش رفت کو ملتے جلتے عنوان کے ساتھ شائع کیا، تاہم پیٹرولیم ڈویژن کے بیان سے آگے کوئی اضافی تفصیل نہیں دی۔
سعودی عرب پاکستان کے لیے درآمدی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے، اور ذخیرے یا ریفائنری گنجائش سے متعلق کوئی بھی انتظام ملک کے درآمدی بل اور اس کی ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت پر اثر ڈالے گا۔ اعلان میں اس حوالے سے کوئی عدد نہیں دیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔