پاکستان کی جانب سے افغانستان میں طالبان سے منسلک 10 مقامات پر فضائی حملوں کی اطلاع
گل بہادر گروپ سے وابستہ ایک سینئر کمانڈر کے ہلاک ہونے کی بھی خبر ہے، تاہم حکومتی سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔
بدھ کو دو پاکستانی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں طالبان سے منسلک ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں اور ایک ادارے نے دعویٰ کیا کہ گل بہادر گروپ سے وابستہ ایک سینئر کمانڈر ہلاک ہو گیا ہے۔
ٹیپ میڈ نے اپنی سرخی میں رپورٹ کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں طالبان سے منسلک 10 مقامات پر فضائی حملے کیے۔ ادارے کی مکمل رپورٹ فوری طور پر دستیاب نہیں تھی، اس لیے حملوں کے مقامات، تاریخ اور استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ڈیلی انڈیپنڈنٹ نے رپورٹ کیا کہ گل بہادر گروپ سے منسلک ایک سینئر کمانڈر پاکستانی فضائی حملے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ اس ادارے کی سرخی اور پیراگراف میں کمانڈر کا نام، حملے کی جگہ یا دیگر ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔
دونوں رپورٹوں میں پاکستانی فوج، افغان طالبان انتظامیہ یا کسی اور حکومت کی جانب سے تصدیق کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں ہوا اور افغان حکام نے بھی رپورٹیں شائع ہونے تک کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔
رپورٹوں میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ حملے طیاروں سے کیے گئے یا ڈرون سے، اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ آیا یہ کارروائی پاکستان کے اندر کسی مخصوص حملے کا جواب تھی۔ کمانڈر کی ہلاکت کے علاوہ کسی اور جانی نقصان کا ذکر نہیں کیا گیا۔
گل بہادر گروپ ان عسکری دھڑوں میں شامل ہے جن پر پاکستان پہلے بھی افغان سرزمین سے حملے کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے۔ ماضی میں پاکستان کے سرحد پار فضائی حملوں پر افغان حکام نے خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔
یہ رپورٹیں جمعرات کی سہ پہر پاکستانی وقت کے مطابق سامنے آئیں۔ دونوں خبریں ابتدائی طور پر گوگل نیوز آر ایس ایس فیڈ کے ذریعے تقسیم کی گئیں، اور اس خبر کی فائلنگ تک مکمل مضامین تک رسائی ممکن نہیں تھی۔ سکردو ٹائمز ان رپورٹوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
ویڈیو

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔