پاکستان کے افغان سرحد پار فضائی حملے، 28 دہشت گرد ہلاک
وزارت اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی قابل اعتماد انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی اور تین اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان نے افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے اور بتایا کہ 28 عسکریت پسند مارے گئے۔ رائٹرز اور ٹیمپو ڈاٹ کو انگلش نے پاکستان کے اس دعوے کو رپورٹ کیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حملے خیبر پختونخوا میں حالیہ حملوں کے بعد کیے گئے اور ان میں تین اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
جیو نیوز نے وزارت اطلاعات کے حوالے سے بتایا کہ یہ کارروائی قابل اعتماد انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ٹھیک نشانہ بنایا گیا۔ ڈان اخبار نے بھی فضائی حملوں کو "مربوط" قرار دیا اور کہا کہ یہ سرحدی علاقے میں دہشت گرد اہداف کے خلاف تھے۔
جیو نیوز نے مزید بتایا کہ کوہاٹ، ہنگو اور تھل میں زمینی کارروائی بھی کی گئی، تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ کارروائی فضائی حملوں سے منسلک تھی یا الگ۔ وزارت اطلاعات کے بیان میں حملوں کا وقت یا نشانہ بننے والے گروہوں کے نام نہیں بتائے گئے۔ رائٹرز نے پاکستان کے حوالے سے کہا کہ افغانستان میں تین اہداف پر فضائی حملوں میں 28 افراد مارے گئے۔ ٹیمپو ڈاٹ کو انگلش نے بھی یہی تعداد شائع کی۔
ذرائع نے حملوں کے مقام کے بارے میں معمولی فرق بتایا: ایکسپریس ٹریبیون نے اہداف کو افغان سرحد کے قریب قرار دیا، جبکہ رائٹرز نے کہا کہ حملے افغانستان میں ہوئے۔ ڈان نے "سرحدی علاقہ افغانستان" کی اصطلاح استعمال کی۔ سکردو ٹائمز آزادانہ طور پر ہلاکتوں کی تعداد یا حملوں کے صحیح مقامات کی تصدیق نہیں کر سکا۔ رپورٹوں میں فوج کا کوئی تفصیلی بیان دستیاب نہیں تھا اور کسی بھی رپورٹ میں افغان حکومت کا فوری ردعمل شامل نہیں تھا۔
یہ کارروائی خیبر پختونخوا میں حالیہ عسکریت پسندوں کے حملوں کے بعد سامنے آئی ہے جس سے حکومت پر سرحد پار سے کارروائیاں کرنے والے گروہوں کے خلاف کارروائی کا دباؤ بڑھا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان پر عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا رہا ہے، جسے کابل مسترد کرتا ہے۔ سرحد کا دشوار گزار علاقہ مسلح گروہوں کی دونوں ملکوں کے درمیان نقل و حرکت کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ یہ حملے مغربی سرحد کے ساتھ سیکیورٹی کارروائیوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہیں۔
ویڈیو

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔