مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

پاکستان: افغانستان سے حملوں میں 4,700 سے زائد پاکستانی ہلاک

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کے نمائندے محمد جواد اجمل نے طالبان پر غیر ملکی گروہوں کی پشت پناہی کا الزام لگایا، جبکہ رچرڈ بینیٹ نے مشروط تعلقات کی بات کی۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
پاکستان: افغانستان سے حملوں میں 4,700 سے زائد پاکستانی ہلاک

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کے نمائندے محمد جواد اجمل نے کہا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں افغانستان سے شروع ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں 4,700 سے زائد پاکستانی ہلاک ہوئے۔ یہ اطلاع ڈان نے دی۔

ڈان کے مطابق اجمل نے یہ بات جمعرات کی شام افغانستان کے حوالے سے کونسل کے انٹرایکٹو ڈائیلاگ میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان انتظامیہ اب بھی دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین سے کام کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ 4,700 ہلاکتوں کا اعداد و شمار کن حملوں پر مبنی ہے یا اسے کیسے شمار کیا گیا، اور اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی اجلاس میں الگ بیان میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے کہا کہ کابل انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے پہلے انسانی حقوق میں قابل تصدیق بہتری دیکھی جانی چاہیے۔ ڈان کے مطابق بینیٹ افغانستان میں انسانی حقوق کے اقوام متحدہ کے مینڈیٹ ہولڈر ہیں۔

افغان اجلاس کی کوریج کابل ٹریبون نے بھی کی اور اسے اس سرخی کے ساتھ شائع کیا کہ پاکستان نے طالبان پر عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام لگایا جبکہ اقوام متحدہ کے ماہر نے انسانی حقوق کی صورتحال پر تنقید کی۔ کسی بھی میڈیا ہاؤس نے دونوں بیانات کا مکمل متن شائع نہیں کیا۔

دونوں رپورٹوں کے مطابق پاکستان کی سرحد پار عسکریت پسندی کی شکایت اور خصوصی نمائندے کی طالبان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر تنقید اسی کونسل اجلاس میں سامنے آئی جو جمعرات کی شام افغانستان کے موضوع پر منعقد ہوا۔

رپورٹوں میں طالبان انتظامیہ کی طرف سے اجمل کے الزامات پر کوئی فوری ردعمل شامل نہیں تھا، اور جنیوا میں پاکستان کے مشن کا کوئی بیان بھی ان میں موجود نہیں۔

کونسل میں کسی ملک کے حوالے سے انٹرایکٹو ڈائیلاگ میں رکن ممالک اور اقوام متحدہ کا مینڈیٹ ہولڈر ایک ہی نشست میں شریک ہوتے ہیں، جہاں ممالک اپنی بات رکھتے ہیں اور بعد میں ماہر جواب دیتا ہے۔ ڈان کے مطابق بینیٹ کا بیان پاکستانی نمائندے کی بات سے الگ رپورٹ کیا گیا۔

پاکستان اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اور سلامتی کے فورمز پر یہ موقف اٹھاتا رہا ہے کہ اس کی سرزمین پر حملے افغان سرزمین سے منصوبہ بند اور شروع کیے جاتے ہیں، اور اجمل کا اعداد و شمار وہی ہے جو اس ہفتے اس کے وفد نے کونسل کے سامنے پیش کیا۔ اقوام متحدہ نے طالبان انتظامیہ کو تسلیم نہیں کیا، اور کونسل میں شریک ممالک میں اس بات پر اختلاف رہا ہے کہ انسانی حقوق میں بینیٹ کے بیان کردہ قابل تصدیق بہتری کے بغیر کابل کے ساتھ رابطے کس حد تک بڑھائے جائیں۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔