مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

پاکستان اور ترکمانستان کارگو اور تجارتی پروازیں بحال کرنے کے لیے تیار

ترکمان پورٹل اور ٹرینڈ کے مطابق دونوں ممالک سفیر کی سطح پر فضائی روابط بحال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ

پاکستان اور ترکمانستان دونوں ممالک کے درمیان کارگو اور تجارتی پروازیں بحال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ اطلاع جمعرات کو ترکمان پورٹل ڈاٹ کام اور ٹرینڈ ڈاٹ اے زیڈ کی رپورٹوں میں دی گئی۔

ترکمان پورٹل کی سرخی تھی: "پاکستان اور ترکمانستان کارگو اور تجارتی پروازیں بحال کرنے کے لیے تیار، سفیر"۔ ٹرینڈ ڈاٹ اے زیڈ کی سرخی تھی: "پاکستان ترکمانستان کے ساتھ کارگو، تجارتی پروازیں بحال کرنے کا خواہاں"۔ دونوں اداروں نے اپنی خبر کے تعارفی پیراگراف میں بھی یہی سرخی استعمال کی۔

اعلان کی ذمہ داری ایک سفیر کو دی گئی۔ سکردو ٹائمز سفیر کی شناخت کی تصدیق نہیں کر سکا کیونکہ رپورٹوں کا مکمل متن فائلنگ کے وقت دستیاب نہیں تھا۔ دونوں اداروں نے بحالی کی تاریخ یا متعلقہ ایئر لائنز کا نام نہیں بتایا۔

ترکمان پورٹل ڈاٹ کام ترکمانستان کا ایک نیوز پورٹل ہے، جبکہ ٹرینڈ ڈاٹ اے زیڈ آذربائیجان کی ایک خبر رساں ایجنسی ہے جو بحیرہ کیسپین اور وسطی ایشیا کے خطے کی خبریں دیتی ہے۔ دونوں ادارے نقل و حمل اور تجارت کی خبریں باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔

پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان براہ راست پروازیں برسوں سے معطل ہیں۔ اگر بحال ہوتی ہیں تو سامان اور مسافروں کے لیے براہ راست فضائی راہداری ملے گی اور تیسرے ملک سے گزرنے کی ضرورت کم ہوگی۔

پاکستان اور ترکمانستان کا زمینی رابطہ افغانستان کے راستے ہے، لیکن سڑک کے راستے سیکیورٹی اور سرحدی تاخیر کا شکار رہے ہیں۔ فضائی رابطہ جلدی خراب ہونے والے سامان اور کاروباری سفر کے لیے تیز ثابت ہوگا۔

کسی بھی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پروازیں شروع میں صرف کارگو ہوں گی یا مسافر خدمات بھی شامل ہوں گی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ دونوں حکومتوں نے کوئی باقاعدہ معاہدہ کیا ہے یا اعلان مذاکرات کی تیاری کا اظہار ہے۔

سکردو ٹائمز نے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے اور جواب آنے پر رپورٹ اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔