پاکستان نے عالمی مالی معاونت تیز کرنے کا مطالبہ کیا، آبی نظام پر دباؤ
وزیر خزانہ نے نیویارک میں کہا کہ سیلاب سے بنیادی ڈھانچے اور عوام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، موسمیاتی فنڈز تک رسائی آسان بنائی جائے۔
پاکستان نے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی مالی معاونت تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے نیویارک میں کہا کہ سیلاب سے بنیادی ڈھانچے اور عوام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور بار بار موسمیاتی نقصانات کے بعد ملک اپنے قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام کو مضبوط کر رہا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے شدید خطرات کا سامنا ہے اور آفات سے نمٹنے، ابتدائی انتباہی نظام اور لاگت پر مبنی موسمیاتی سرمایہ کاری کے منصوبوں کو مضبوط بنانے کے لیے بیرونی امداد کے ساتھ ملکی وسائل بھی بروئے کار لانا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف بیرونی امداد کافی نہیں، ملکی مالیاتی گنجائش بھی استعمال کرنی ہوگی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کا نظام مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے، ابتدائی انتباہی نظام اور لاگت پر مبنی موسمیاتی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔
اورنگزیب نے گرین کلائمیٹ فنڈ اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ سے فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ موسمیاتی فنڈز تک رسائی کا طریقہ کار آسان بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی مارکیٹ سے بھی مالی وسائل حاصل کرے گا۔
وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے نیویارک میں اہم اجلاسوں میں شرکت کے دوران پاکستان کی موسمیاتی کمزوریوں اور مالی معاونت کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کاپ 31 ایکشن ایجنڈے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایجنڈا پاکستان کی موسمیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔ اورنگزیب نے ورچوئل اثاثہ جات کے ریگولیٹڈ فریم ورک، ٹوکنائزیشن اور ڈیجیٹل نظام پر بھی گفتگو کی۔
ایک علیحدہ بیان میں رانا احمد عتیق انور نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، تیزی سے بڑھتی آبادی، شہری پھیلاؤ، آلودگی اور صنعتی سرگرمیوں کے باعث پاکستان کے آبی نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اردو پوائنٹ کی رپورٹ میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔