رپورٹ: پاکستان کا پانی کا بحران اندرونی انتظامی ناکامیوں کا نتیجہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا دریائے سندھ معاہدے پر زور اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
آئی اے این ایس لائیو اور دیگر ذرائع سے ملنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا پانی کا بحران اندرونی انتظامی ناکامیوں کی وجہ سے ہے، نہ کہ بھارت کے ساتھ دریائے سندھ معاہدے جیسے بیرونی عوامل سے۔
رپورٹ کا مکمل متن فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکا، لیکن اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا عوامی بیانات میں معاہدے پر زور ان اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
آئی اے این ایس لائیو، دی ہاک ان اور سوشل نیوز ایکس وائی زیڈ نے بدھ کو یہ نتائج شائع کیے۔ مرکزی رپورٹ کی سرخی میں کہا گیا کہ بحران "اندرونی انتظامی ناکامیوں کو ظاہر کرتا ہے" جبکہ دیگر ذرائع نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ معاہدے کا بیان "اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش" ہے۔
رپورٹ پاکستان کے اس دیرینہ موقف کو چیلنج کرتی ہے کہ 1960 کے دریائے سندھ معاہدے کے تحت پانی کی قلت کا ذمہ دار بھارت ہے۔ پاکستان بارہا بھارت پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتا رہا ہے، خاص طور پر مغربی دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کے حوالے سے۔
رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر معاہدہ مکمل طور پر بھی نافذ ہو جائے تو بھی پاکستان کا پانی کا بحران برقرار رہے گا کیونکہ اس کی جڑیں اندرونی ہیں۔
پاکستانی حکام یا سرکاری اداروں کی جانب سے رپورٹ پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔