پولیو مہم: والدین سے بچوں کو قطرے پلانے کی اپیل
21 سے 27 ستمبر تک جاری مہم میں 115 اضلاع کے 31 ملین سے زائد بچوں کو پولیو ویکسین دینے کا ہدف ہے۔

اسلام آباد: وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے پولیو خاتمہ عائشہ رضا فاروق نے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کو یقینی بنائیں۔ ملک بھر میں جاری ذیلی قومی پولیو مہم 21 ستمبر سے شروع ہوئی اور 27 ستمبر تک جاری رہے گی۔ یہ مہم 115 منتخب اضلاع میں چلائی جا رہی ہے جس کا ہدف 31 ملین سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔
عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ یہ مہم بچوں کو پولیو وائرس سے بچانے اور ملک میں باقی ماندہ قوت مدافعت کے خلا کو پُر کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مثبت ماحولیاتی نمونوں میں حالیہ کمی حوصلہ افزا ہے تاہم پولیو وائرس کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ منٹ مرر کے مطابق انہوں نے کہا کہ جب تک پولیو وائرس کہیں بھی موجود ہے، ہمیں ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پولیو خاتمہ پروگرام اب بھی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے لیکن فرنٹ لائن ورکرز مشکل حالات کے باوجود گھر گھر جا کر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ عائشہ رضا فاروق نے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی کہ وہ ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پانچ سال سے کم عمر کا کوئی بچہ مہم کے دوران چھوٹ نہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ بار بار ویکسینیشن بچوں کی قوت مدافعت مضبوط کرنے اور کمیونٹیز میں پولیو وائرس کی منتقلی کا خطرہ کم کرنے کے لیے اہم ہے۔
فوکل پرسن نے علمائے کرام، ذرائع ابلاغ، کمیونٹی رہنماؤں اور معاشرے کے دیگر بااثر افراد سے بھی اپیل کی کہ وہ قومی پولیو خاتمے کی کوششوں کی حمایت کریں اور والدین میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کرنے میں مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی کا تعاون اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ویکسینیشن ٹیمیں ہر اہل بچے تک پہنچ سکیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں رسائی مشکل ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بچوں کو پولیو سے بچانے کی ذمہ داری صرف ہیلتھ ورکرز یا سرکاری محکموں پر نہیں ہے بلکہ والدین اور کمیونٹیز کا بھی اہم کردار ہے۔ انہوں نے خاندانوں سے کہا کہ وہ تربیت یافتہ پولیو ورکرز کو گھریلو دوروں کے دوران ویکسین دینے کی اجازت دیں اور اگر انہیں ویکسینیشن کے بارے میں کوئی خدشات ہوں تو محکمہ صحت سے رہنمائی حاصل کریں۔
عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ ہر بچے کو پولیو سے بچانا قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ والدین، علمائے کرام، کمیونٹی نمائندوں، ذرائع اابلاغ اور فرنٹ لائن ورکرز کے مسلسل تعاون سے پاکستان پولیو وائرس کے خاتمے کی کوششوں کو مزید مضبوط بنا سکے گا اور آنے والی نسلوں کو اس معذور کر دینے والی بیماری سے محفوظ رکھ سکے گا۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔