مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

فون پے کو یو اے ای میں ابتدائی منظوری، پاکستانی اسٹارٹ اپ کیلئے 20 ملین ڈالر

ایف ڈبلیو ڈی اسٹارٹ کے مطابق بھارتی ادائیگی کمپنی والٹس، ترسیلات اور ایس ایم ای ادائیگیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے جبکہ بول نیوز نے پاکستانی کاروباری شخص کی فنڈنگ کی خبر دی ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ

بھارتی ڈیجیٹل ادائیگی کمپنی فون پے کو متحدہ عرب امارات کے ریگولیٹرز سے ابتدائی منظوری مل گئی ہے اور وہ ڈیجیٹل والٹس، ترسیلات زر اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کیلئے ادائیگیوں کی خدمات شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ اطلاع ایف ڈبلیو ڈی اسٹارٹ نے جمعرات کو دی۔

ایف ڈبلیو ڈی اسٹارٹ کی سرخی کے مطابق فون پے نے ابتدائی منظوریاں حاصل کر لی ہیں اور والٹس، ریمیٹنس اور ایس ایم ای ادائیگیوں پر نظر ہے، تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کس ریگولیٹر نے منظوری دی اور خدمات کب شروع ہوں گی۔ اسٹینڈ فرسٹ میں بھی یہی الفاظ دہرائے گئے اور مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب بول نیوز نے ایک سرخی شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک پاکستانی کاروباری شخص نے ریمیٹنس اسٹارٹ اپ کیلئے 20 ملین ڈالر حاصل کر لیے ہیں۔ بول نیوز کی سرخی میں کاروباری شخص، کمپنی یا سرمایہ کاروں کے نام نہیں بتائے گئے اور سکردو ٹائمز کو دستیاب مواد میں مزید تفصیلات موجود نہیں تھیں۔ دونوں خبریں جمعرات کو سامنے آئیں، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ بول نیوز نے بھی اپنی سرخی سے آگے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خلیجی ممالک سے ترسیلات زر کیلئے ڈیجیٹل ادائیگی کمپنیوں کے درمیان مقابلہ بڑھ رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات مشرق وسطیٰ میں پاکستانیوں کی سب سے بڑی آبادیوں میں سے ایک کا میزبان ہے اور یہاں سے بھیجی جانے والی رقم پاکستان کے زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ درہم ان کرنسیوں میں شامل ہے جو سب سے زیادہ پاکستان بھیجی جاتی ہیں۔

فون پے بھارت کے بڑے ڈیجیٹل ادائیگی پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے اور موبائل والٹس اور یو پی آئی پر مبنی لین دین کیلئے جانی جاتی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں اس کی آمد سے جنوبی ایشیائی تارکین وطن کو خدمات فراہم کرنے والی موجودہ ریمیٹنس اور ادائیگی کمپنیوں سے براہ راست مقابلہ ہوگا۔

سکردو ٹائمز آزادانہ طور پر دونوں رپورٹوں کی تصدیق نہیں کر سکا۔ قارئین تفصیلات کو اس وقت تک ابتدائی سمجھیں جب تک مکمل رپورٹیں یا سرکاری بیانات شائع نہ ہوں۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔