پی آئی اے بیڑے میں چار طیارے شامل کرے گی، پہلا یکم نومبر سے
پارلیمانی سیکرٹری دفاع اسامہ سرور نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ دوسرا طیارہ 15 نومبر کو موصول ہوگا اور دو مزید جنوری 2027 میں کراچی سے پروازیں شروع کریں گے۔

اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اپنے بیڑے میں چار طیارے شامل کرے گی، جن میں سے پہلا یکم نومبر سے آپریشنل ہو جائے گا۔ یہ بات پارلیمانی سیکرٹری دفاع اسامہ سرور نے جمعے کے روز قومی اسمبلی میں بتائی۔
وہ حال ہی میں لیز پر لیے گئے پی آئی اے کے بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر کی پاکستان اور برطانیہ کے درمیان پروازوں کے روٹس سے کراچی کو خارج رکھے جانے کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دے رہے تھے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق انہوں نے ایوان کو بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری ہو چکی ہے اور وہ اب ایک نئے انتظام کے تحت کام کر رہی ہے، تاہم ایجنسی کی شائع شدہ رپورٹ میں اس انتظام کی مکمل تفصیل موجود نہیں۔
پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق اسامہ سرور نے چار طیاروں کا شیڈول بھی بتایا۔ پہلا طیارہ یکم نومبر کو آپریشنل ہوگا، دوسرا 15 نومبر کو موصول ہوگا اور اس کا روٹ آمد کے بعد طے کیا جائے گا۔ دو مزید طیارے جنوری 2027 میں بیڑے کا حصہ بنیں گے اور کراچی سے پروازیں شروع کریں گے۔
پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ اس اضافے سے ایئرلائن مزید روٹس پر پروازیں چلا سکے گی۔ دونوں رپورٹوں میں نہ طیاروں کی اقسام بتائی گئیں، نہ ان کے حصول کی شرائط، اور نہ ہی 2027 کے شروع میں کراچی سے آپریشن کے منصوبے کے علاوہ کسی روٹ کا ذکر کیا گیا۔
دونوں رپورٹوں میں طیاروں کی تعداد اور اعلان کرنے والے افسر کے حوالے سے اتفاق ہے۔ ڈیلیوری کی تاریخیں اور کراچی سے آپریشن کا منصوبہ صرف پروپاکستانی کی رپورٹ میں آیا ہے، جبکہ اے پی پی کی خبر میں اسامہ سرور کے جواب کا صرف ابتدائی حصہ شائع ہوا۔
یہ اعلان ایسے وقت ہوا ہے جب پی آئی اے اپنا بین الاقوامی نیٹ ورک بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس میں برطانیہ کی پروازیں بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں لیز پر لیے گئے ڈریم لائنر کی روٹ تقسیم پر پارلیمنٹ میں توجہ دلائی گئی اور توجہ دلاؤ نوٹس میں پوچھا گیا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کو اس طیارے کے پاکستان۔برطانیہ شیڈول سے کیوں خارج رکھا گیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس جمعے کے روز ہوا۔ دستیاب رپورٹوں میں توجہ دلاؤ نوٹس کی کارروائی کی دیگر تفصیلات موجود نہیں۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔