وزیرِاعظم نے اسلام آباد کے اسکولوں کی اصلاح کیلئے احسن اقبال کو ایک ہفتہ دے دیا
شہباز شریف نے عمارتوں کے نقائص کو ہنگامی مسئلہ قرار دیتے ہوئے مفت لنچ، ہر اسکول میں سمارٹ بورڈ اور ریمپ کی ہدایت کی۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے وفاقی سرکاری اسکولوں کے مسائل حل کرنے کے لیے منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال کو ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔ یہ ہدایت انہوں نے بدھ کے روز اسکولی اصلاحات کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔
وزیرِاعظم ہاؤس کے مطابق شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی کہ اسکولی عمارتوں کے نقائص کو ہنگامی نوعیت کا مسئلہ سمجھا جائے اور مرمت کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دارالحکومت کے ہر وفاقی سرکاری اسکول میں عمارتوں، نصاب اور اساتذہ کی تربیت پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں شہر کے طلبہ کے لیے مفت لنچ پروگرام شروع کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ وزیرِاعظم ہاؤس کے مطابق اس کا مقصد ”اسلام آباد میں طلبہ کی غذائی ترقی کو یقینی بنانا“ ہے۔
دیگر ہدایات میں ہر سرکاری اسکول میں جلد از جلد سمارٹ بورڈ نصب کرنا، وہیل چیئر استعمال کرنے والے طلبہ کی رسائی کے لیے ہر اسکول میں ریمپ بنانا اور اسکولوں میں بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا شامل ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ اساتذہ کو تدریس کے علاوہ دیگر ذمہ داریوں سے آزاد رکھا جائے اور بھرتیاں ”مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر“ ہوں۔ حکام کو سرکاری اسکولوں میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینے اور کام کی تھرڈ پارٹی جانچ کرانے کی بھی ہدایت کی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں 278 سرکاری بسیں پہلے ہی طلبہ کو سہولت دے رہی ہیں۔ شہباز شریف نے اس سروس کی رسائی بڑھانے اور اسے آؤٹ سورس کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو ”مؤثر اور فعال ادارہ“ بنانے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کو بھی کہا۔
اجلاس میں نصاب، اسکولی عمارتوں اور دیگر امور سے متعلق ایک سروے رپورٹ پیش کی گئی جو وزیرِاعظم کی ستمبر 2026 کی ہدایت کے بعد تیار کی گئی تھی۔ وزیرِاعظم ہاؤس کے مطابق بریفنگ میں بعض اسکولوں کے مسائل کا ذکر ہوا، تاہم کہا گیا کہ دارالحکومت کے بیشتر اسکولوں میں انٹرنیٹ، صاف پینے کا پانی اور کمپیوٹر لیبز پہلے سے موجود ہیں۔ بریفنگ میں ہیڈ ٹیچرز کو زیادہ اختیارات دینے اور جدت کی حوصلہ افزائی پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مسدق ملک، وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ تعلیم خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے سینئر افسران شریک ہوئے۔
وزیرِاعظم ہاؤس نے اجلاس کی تفصیلات ایکس پر شیئر کیں اور اصلاحات کو انفراسٹرکچر، نصاب اور اساتذہ کی تربیت پر مشتمل مشترکہ کوشش قرار دیا۔ ڈان نے رپورٹ کیا کہ وزیرِاعظم نے اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں فوری اصلاحات کا حکم دیا، جبکہ بزنس ریکارڈر نے ایک ہفتے کی مہلت کی خبر دی۔ اجلاس کے بعد جاری بیانات میں کام کی لاگت کا کوئی تخمینہ یا مالیاتی ذریعہ نہیں بتایا گیا۔
اب احسن اقبال پر دباؤ ہے کہ وہ اصلاحات میں پیش رفت سے متعلق رپورٹ دیں۔

اسلام آباد میں ٹیلی سرجری سے پہلا روبوٹک گال بلیڈر آپریشن
ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اسے دارالحکومت کا پہلا آپریشن قرار دیا جبکہ اردو پوائنٹ نے ملک کا پہلا کہا، اور کسی رپورٹ میں ہسپتال، ڈاکٹروں یا مریض کا نام نہیں بتایا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ: بریت پانے والوں کے کردار سرٹیفکیٹ پر مقدمے کا ذکر ممنوع
جسٹس ایاز شوکت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ ایسی ایف آئی آرز سرٹیفکیٹ میں درج نہ ہوں جن کا انجام حتمی بریت ہو

وزیراعظم کا پاک چین فرینڈشپ ہسپتال میں مفت علاج کا حکم
چین کے تحفے میں ملنے والا 182 بستروں کا یہ ہسپتال برسوں بند رہا، اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اسے چلائے گا اور علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔

سی ڈی اے کا فضل الرحمان کو 15 دن میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا حکم
30 اکتوبر کے نوٹس میں سیکٹر G-6/4 کے پلاٹ پر غیر مجاز گارڈ پوسٹ، سی ڈی اے کی زمین پر جنریٹر اور لازمی بفروں میں تعمیر کو خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔