مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں، وزیراعظم

یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر پیغام میں شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان مسئلے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مبنی اپنی اصولی پوزیشن پر قائم ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی پوزیشن واضح، مستقل اور اصولی ہے، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بات انہوں نے یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی، جو 27 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ بزنس ریکارڈر اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان دونوں نے یہ پیغام شائع کیا۔

وزیراعظم نے کہا، "یومِ سیاہ کشمیر پر حکومت اور عوامِ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی غیرمتزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں۔" پاکستان کی سرکاری دستاویزات اس علاقے کو "بھارت کے غیرقانونی قبضے میں کشمیر" کے نام سے یاد کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کو اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت دیتا رہے گا اور ہر قومی و بین الاقوامی فورم پر ان کے جائز حقوق کی وکالت کرے گا۔

پیغام میں یاد دلایا گیا کہ انیس سو سینتالیس میں بھارتی فوجیں سری نگر پہنچی تھیں، جسے اس نے خطے کی تاریخ کا ایک المناک باب قرار دیا جس کے اثرات آج تک برقرار ہیں۔ پیغام کے مطابق اس وقت سے کشمیر کے عوام کو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں درج حقِ خود ارادیت سے محروم رکھا گیا ہے۔

وزیراعظم کے پیغام میں کسی نئی سفارتی پہل کا اعلان نہیں کیا گیا، اور دونوں رپورٹس میں اس دن کے لیے کسی اور سرکاری پروگرام کا ذکر بھی نہیں تھا۔

کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر سب سے قدیم امور میں شامل ہے، اور پاکستان نے کئی دہائیوں سے اس حل کی بات کو انہی قراردادوں سے جوڑا ہے۔ اسلام آباد مسلسل اقوام متحدہ سے قراردادوں کی تنفیذ کا مطالبہ کرتا رہا ہے، اور حالیہ اجلاسوں میں جنرل اسمبلی میں بھی یہی مؤقف دہرایا گیا۔

پاکستان اور آزاد کشمیر میں یومِ سیاہ ہر سال 27 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ تاریخ انیس سو سینتالیف میں سری نگر میں بھارتی فوج کی آمد سے منسلک ہے، جسے وزیراعظم کے پیغام میں تنازعے کا آغاز قرار دیا گیا۔

گزشتہ حکومتوں کی طرح اس موقع پر بھی پاکستان کا سرکاری مؤقف دہرایا گیا، اور وزیراعظم کے پیغام میں بھی کوئی پالیسی تبدیلی نہیں بتائی گئی بلکہ علاقے کے عوام کی منظوری پر مبنی حل کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وزیراعظم اس دن کسی تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں، یا حکومت آئندہ ہفتوں میں یہ مسئلہ اقوام متحدہ یا دیگر فورموں پر اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے یا نہیں۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔