شہباز شریف: قرضوں کی ادائیگی ترقی پذیر ممالک کی ترقی کیلئے رکاوٹ ہے
اقوام متحدہ میں ترقی کے حق سے متعلق اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ ترقی کا مقصد صرف دولت پیدا کرنا نہیں بلکہ سماجی بہتری اور انسانی وقار کا تحفظ بھی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں ترقی کے حق سے متعلق اعلامیے کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی ترقی پذیر ممالک کی مالی گنجائش کو محدود کر رہی ہے جس سے حکومتوں کے لیے ترقی اور عوام کی زندگی بہتر بنانے کے وسائل کم ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترقی کا مقصد صرف دولت پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس سے سماجی بہتری اور انسانی وقار کا تحفظ بھی ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ تقریباً چار عشروں قبل منظور ہونے والے اعلامیے میں ترقی کو ہر فرد کا ناقابل تنسیخ حق قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجوں کے باوجود اس کا پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہر فرد بہتر مستقبل کا حق رکھتا ہے اور ترقی کو مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی وقار اور بنیادی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنانا چاہیے۔
انہوں نے موسمیاتی آفات کو ترقی کے حصول کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ ایک قدرتی آفت برسوں کی محنت سے حاصل ہونے والی پیش رفت کو ختم کر سکتی ہے اور ترقی پذیر ممالک پر اضافی بوجھ ڈال سکتی ہے۔ انہوں نے کمزور ممالک کی مدد کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔
دوسری جانب اے آر وائی نیوز نے اقتصادی امور ڈویژن کی ماہانہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلے دو مہینوں میں پاکستان کو 1.70 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ملے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 1.37 ارب ڈالر کے مقابلے میں 23.60 فیصد زیادہ ہیں۔ روپے میں یہ رقم 476 ارب روپے بنتی ہے جبکہ گزشتہ سال 391 ارب روپے تھی۔
اس میں سے 484.5 ملین ڈالر مختلف منصوبوں کے لیے جبکہ 1.21 ارب ڈالر غیر منصوبہ جاتی فنانسنگ کے طور پر حاصل کیے گئے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے پہلے دو مہینوں میں 590 ملین ڈالر سے زائد قرضے فراہم کیے جن میں اسلامی ترقیاتی بینک 191.2 ملین، عالمی بینک 238.4 ملین اور ایشیائی ترقیاتی بینک 95.7 ملین ڈالر شامل ہیں۔ پاکستان کو مختلف ممالک سے 35.2 ملین ڈالر بھی ملے جن میں جرمنی سے 12.8 ملین اور سعودی عرب سے 8.9 ملین ڈالر شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نیا پاکستان سرٹیفکیٹ پروگرام کے تحت 629.7 ملین ڈالر حاصل کیے گئے جبکہ غیر ملکی تجارتی بینکوں سے 300 ملین ڈالر قرض لیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔