بجلی کی لاگت کم کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی میں کمی کا مطالبہ
سی پی پی اے کی 2.56 روپے فی یونٹ اضافی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت میں کہا گیا کہ لیوی بجلی کی لاگت میں تقریباً 10 روپے فی یونٹ کا اضافہ کر رہی ہے۔

پاور ڈویژن اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کے نمائندوں نے جمعرات کو مشترکہ طور پر مطالبہ کیا کہ بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے فرنس آئل اور ڈیزل پر عائد پٹرولیم لیوی ختم یا کم کی جائے، کیونکہ اس لیوی سے بجلی کی لاگت میں تقریباً 10 روپے فی یونٹ کا اضافہ ہوتا ہے۔
یہ مطالبہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی اس درخواست پر ہونے والی عوامی سماعت میں سامنے آیا جس میں ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) میں 2.56 روپے فی یونٹ کا اضافہ مانگا گیا ہے تاکہ تقریباً 33 ارب روپے کی وصولی کی جا سکے۔ ڈان کے مطابق پاور ڈویژن اور صنعت کاروں کے نمائندوں کا موقف متفقہ تھا۔
صنعت کاروں کے نمائندوں نے سماعت میں کہا کہ ایندھن پر عائد لیویاں بجلی کی پیداوار کی لاگت کو بڑھا رہی ہیں اور یہ اضافہ صارفین کے بلوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پاور ڈویژن نے لیوی کم کرنے کے مطالبے کی حمایت کی۔
ایف سی اے وہ ماہانہ ایڈجسٹمنٹ ہے جس کے ذریعے بجلی گھروں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمت میں تبدیلی بیس ٹیرف سے الگ رہ کر صارفین پر منتقل کی جاتی ہے۔ یہ درخواست سی پی پی اے بجلی کمپنیوں کی جانب سے جمع کرواتی ہے اور عوامی سماعت کے بعد اس پر فیصلہ ہوتا ہے، جس میں صارفین اور صنعت کار اعتراضات پیش کر سکتے ہیں۔
پروفٹ بائے پاکستان ٹوڈے نے اسی موضوع پر اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت نے ایندھن پر 4.4 ٹریلین روپے کی لیوی وصول کی جبکہ ریلیف میں تاخیر کی۔ اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ رقم کس عرصے میں وصول ہوئی یا یہ اعداد و شمار کیسے نکالے گئے۔
کسی بھی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سی پی پی اے کی درخواست پر فیصلہ کب متوقع ہے، یا مجوزہ 2.56 روپے فی یونٹ ایڈجسٹمنٹ سے ایک عام گھریلو بل پر کتنا اضافہ ہوگا۔ صنعت کاروں کے لیوی میں کمی کے مطالبے پر پیٹرولیم ڈویژن یا وزارت خزانہ کا کوئی ردعمل بھی کسی رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔
سماعت میں پیش کیے گئے دونوں اعداد مختلف چیزیں ناپتے ہیں: صنعت کاروں کا 10 روپے فی یونٹ کا تخمینہ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ لیویاں پیداواری لاگت پر کتنا بوجھ ڈال رہی ہیں، جبکہ 2.56 روپے فی یونٹ وہ اضافی وصولی ہے جو بجلی کمپنیاں اس ماہ مانگ رہی ہیں۔ کسی رپورٹ میں دونوں اعداد کے درمیان مطابقت نہیں بتائی گئی۔
یہ سماعت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے معمول کے ماہانہ عمل کا حصہ ہے، لیکن پیداواری ایندھن پر ٹیکس کے ڈھانچے کو بدلنے کا مطالبہ بجلی کی لاگت کا بوجھ کون اٹھائے گا، اس پر جاری بحث کو ریگولیٹر کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔