صدر اور وزیراعظم نے یوم اخبارات پر پریس کا کردار سراہا
صدر زرداری نے پریس کو چوتھا ستون قرار دیا اور وزیراعظم نے جعلی خبروں کے پھیلاؤ کے باوجود اخبارات کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ اسپیکر ایاز صادق نے اخبارات کو مستند معلومات کا ذریعہ قرار دیا۔

اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے جمعے کے روز قومی یوم اخبارات کے موقع پر الگ الگ پیغامات جاری کیے اور اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل میڈیا کی تیز رفتار ترقی کے باوجود اخبارات عوامی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق صدر زرداری کا پیغام آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے جاری کردہ بیان کے ذریعے سامنے آیا۔ اس بیان میں صدر نے شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں پریس کے چوتھے ستون کے کردار کی توثیق کی۔ ڈان نے بتایا کہ اے پی این ایس کے بیان میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور جعلی خبروں اور غلط معلومات کی مہمات کے ہدفی پھیلاؤ کی طرف بھی توجہ دلائی گئی۔ اخبار نے صدر کے پیغام کا مکمل متن فراہم نہیں کیا۔
ڈان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس موقع پر قوم کو مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے اس وقت اخبارات کی مسلسل اہمیت پر زور دیا جب جعلی خبریں، غلط معلومات اور گمراہ کن معلومات تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کا پیغام قومی یوم اخبارات کی مناسبت سے جاری کیا گیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسپیکر سردار ایاز صادق نے جمعے کو کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں اخبارات کی مطابقت برقرار ہے۔ انہوں نے اخبارات کو مستند خبروں، جامع تجزیے اور قابل اعتماد معلومات کا قابل اعتماد ذریعہ قرار دیا۔ اے پی پی کی رپورٹ میں اسپیکر کے مزید ریمارکس شامل نہیں تھے۔
یہ پیغامات اس وقت سامنے آئے جب ملک بھر میں میڈیا تنظیموں اور پریس اداروں نے قومی یوم اخبارات منایا۔ رپورٹوں کے مطابق یہ دن اخبارات کے مطالعے کو فروغ دینے اور صحافیوں اور ناشرین کے کام کو تسلیم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈان اور اے پی پی دونوں نے رپورٹ کیا کہ حکام نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر غیر تصدیق شدہ مواد کے پھیلاؤ کو ایک اہم چیلنج قرار دیا۔
ڈان کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اے پی این ایس کے بیان میں تیز رفتار تکنیکی تبدیلی اور غلط معلومات کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا حوالہ دیا گیا۔ صدر، وزیراعظم یا اسپیکر کی طرف سے مزید تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں تھیں۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔