نجی شعبے کا قرضوں کی واپسی 364.5 ارب روپے تک پہنچ گئی
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے ڈھائی مہینوں میں نجی شعبے نے 364.5 ارب روپے کا قرض واپس کیا جبکہ گزشتہ سال یہ 170 ارب روپے تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ رواں مالی سال کے پہلے ڈھائی مہینوں میں نجی شعبہ قرضے واپس کرتا رہا۔ یکم جولائی سے 11 ستمبر کے درمیان نجی شعبے کی جانب سے مجموعی قرضوں کی واپسی 364.5 ارب روپے رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ تعداد 170 ارب روپے تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک ابھی تک سرمایہ کاری سے گریز کے ماحول سے باہر نہیں نکل سکا۔ پچھلے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی اسی طرح کا رجحان دیکھا گیا تھا، البتہ سال کے اختتام تک صورتحال بہتر ہو گئی تھی۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نجی شعبہ نئے قرضے لینے کے بجائے پرانے قرضے ادا کرنے پر توجہ دے رہا ہے، جو معیشت میں طلب اور سرمایہ کاری کے اعتماد کی کمی کا اشارہ ہے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔