مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

امریکا ایران مذاکرات پر کے ایس ای 100 میں 830 پوائنٹس اضافہ

بینچ مارک انڈیکس 172,232.51 پر بند ہوا جبکہ تیل کی گرتی قیمتوں اور آئی ایم ایف مشن کی آمد نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا، البتہ خام تیل کی سمت پر رپورٹیں متضاد رہیں۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
امریکا ایران مذاکرات پر کے ایس ای 100 میں 830 پوائنٹس اضافہ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو تیزی رہی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 830.43 پوائنٹس یعنی 0.48 فیصد بڑھ کر 172,232.51 پر بند ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ اضافہ امریکا اور ایران کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر سفارتی پیش رفت کی امید اور خام تیل کی نرم قیمتوں کی بدولت ہوا۔

خریداری آٹو اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، آئل مارکیٹنگ اور ریفائنریز سمیت بڑے شعبوں میں دیکھی گئی۔ کے ٹریڈ سیکیورٹیز نے بتایا کہ فرٹیلائزر، کمرشل بینک، ریفائنری اور آئل اینڈ گیس شعبوں نے قیادت کی، جس میں فوجی فرٹیلائزر، یو بی ایل، میزان بینک اور اٹک ریفائنری نمایاں رہے۔ ٹریڈنگ والیوم 773.6 ملین شیئرز رہا جو گزشتہ روز کے 641.8 ملین سے زیادہ تھا۔

تیل کی قیمتیں مرکزی محرک رہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون نے لکھا کہ برینٹ کروڈ تقریباً 98 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 90 ڈالر کی حد سے نیچے آگیا، جس سے مہنگائی کے خدشات کم ہوئے۔ تاہم پاکستان ٹوڈے نے رپورٹ کیا کہ امریکا ایران مذاکرات میں پیش رفت کے آثار نہ ہونے پر تیل کی قیمتوں میں 2 ڈالر سے زائد اضافہ ہوا۔ دونوں رپورٹوں میں خام تیل کی سمت کے بارے میں فرق ہے۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ملاقات کو دونوں فریقوں نے تعمیری قرار دیا، جس سے جغرافیائی خدشات کم ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ آئندہ بھی تیل کی قیمتوں، جغرافیائی پیش رفت اور غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے بہاؤ پر حساس رہے گی۔

ملکی محاذ پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا مشن پاکستان پہنچ گیا ہے جو توسیعی فنڈ سہولت کے چوتھے جائزے اور لچک اور پائیداری سہولت کے تیسرے جائزے کے لیے مذاکرات شروع کرے گا، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بہتر ہوا۔ سیشن کے دوسرے نصف میں ریفائنری اسٹاک میں خریداری اس افواہ پر بڑھی کہ ریفائنری پالیسی معاہدے پر دستخط جمعرات کو ہوسکتے ہیں۔

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے مطابق فرٹیلائزر، بینک اور ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن شعبوں نے انڈیکس میں 497 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ 496 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 262 بڑھے، 196 گرے اور 38 بے تغیر رہے۔ کینرجیکو 150.3 ملین شیئرز کے ساتھ والیوم میں سرفہرست رہا اور اس کا حصص 1.11 روپے بڑھ کر 14.31 روپے پر بند ہوا۔ نیشنل کلیئرنگ کمپنی کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 547.4 ملین روپے مالیت کے حصص فروخت کیے۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔