پالیسی ریٹ میں اضافے کے باوجود انڈیکس 164,000 سے اوپر بند
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق بینچ مارک انڈیکس 1,428.73 پوائنٹس یعنی 0.88 فیصد بڑھ کر 164,467.20 پر بند ہوا، جب اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کیا۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک انڈیکس منگل کو 164,000 پوائنٹس سے اوپر بند ہوا اور اس نے گزشتہ سیشن میں شروع ہونے والی بحالی کو آگے بڑھایا، کیونکہ مارکیٹ میں خریداری کی طلب واپس آئی۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز لمیٹڈ کے مطابق کے ایس ای-100 انڈیکس 1,428.73 پوائنٹس یعنی 0.88 فیصد بڑھ کر 164,467.20 پر بند ہوا۔ یہ اطلاع ڈان نے دی۔ یہ تیزی ایسے دن دیکھی گئی جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کر دیا۔ ڈان کے مطابق یہ اقدام مشرق وسطیٰ کی صورت حال سے پیدا ہونے والی مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے کیا گیا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق حصص کے سرمایہ کاروں نے شرح سود میں اس اضافے کو مارکیٹ کے خلاف کوئی حتمی موقف نہیں بلکہ توازن پیدا کرنے والا اقدام قرار دیا، اور پرکشش ویلیو کی وجہ سے خریدار انڈیکس میں آتے رہے۔
دوسری رپورٹ، جو انویسٹیفائی نے شائع کی، اسی سیشن کو یوں بیان کرتی ہے کہ پی ایس ایس نے مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں کے باعث اپنی تیزی جاری رکھی۔ اس رپورٹ میں انڈیکس کی اختتامی سطح یا پوائنٹس میں ہونے والا اضافہ درج نہیں تھا۔
کسی بھی رپورٹ میں کاروبار کی سیکٹر وار تفصیل نہیں دی گئی، اور اختتامی اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسٹیٹ بینک کے فیصلے کے بعد شرح سود 12 فیصد ہو جانے سے کمپنیوں اور مارجن پر حصص خریدنے والے سرمایہ کاروں دونوں کے لیے قرض لینا مہنگا ہو جاتا ہے، جو عام طور پر حصص کی قیمتوں پر دباؤ ڈالتا ہے۔ منگل کا اختتام بتاتا ہے کہ فی الحال مارکیٹ نے یہ اضافہ قبول کر لیا ہے۔
انڈیکس کا 164,000 پوائنٹس سے اوپر جانا گزشتہ سیشن میں شروع ہونے والی بحالی کے بعد ہوا۔ ڈان کی رپورٹ میں اس سے پہلے کے اضافے کی مقدار یا پچھلے دن کی اختتامی سطح درج نہیں کی گئی۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔