مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

پی ٹی اے نے غیر فعال سم کارڈز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنا شروع کر دیے

ٹیلی کام ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ دوبارہ جاری ہونے والا نمبر پرانے صارف کو اکاؤنٹ کے کنٹرول سے محروم کر سکتا ہے، صارفین کو رجسٹریشن اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
پی ٹی اے نے غیر فعال سم کارڈز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنا شروع کر دیے

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیر فعال سم کارڈز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کو بلاک کرنا شروع کر دیا ہے۔ ٹیک جوس اور پروپاکستانی کی رپورٹس کے مطابق اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ قدم ایسے نمبروں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے جو اب سروس میں نہیں ہیں۔

دونوں رپورٹس میں پی ٹی اے حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایک آگاہی مہم کے بعد شروع کی گئی ہے جس میں صارفین سے کہا گیا تھا کہ وہ یقینی بنائیں کہ ان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ایسے موبائل نمبروں پر رجسٹرڈ ہیں جو ان کی ملکیت میں ہیں اور فعال ہیں۔

اتھارٹی نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ اگر ان کا پہلے منسلک سم کارڈ غیر فعال، منسوخ یا زیر استعمال نہیں رہا تو وہ اپنی واٹس ایپ رجسٹریشن اپ ڈیٹ کریں۔ پی ٹی اے نے یہ بھی کہا ہے کہ لوگ اپنے سم کی حیثیت چیک کریں اور یقینی بنائیں کہ واٹس ایپ اکاؤنٹ ایسے نمبر سے منسلک ہے جو وہ واقعی استعمال کرتے ہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق خطرہ ٹیلی کام آپریٹرز کی جانب سے نمبر دوبارہ جاری کیے جانے سے پیدا ہوتا ہے۔ غیر فعال سم کا نمبر کسی نئے صارف کو دیا جا سکتا ہے، اور اگر واٹس ایپ اکاؤنٹ اسی نمبر سے جڑا رہے تو پرانا مالک اکاؤنٹ کا کنٹرول کھو سکتا ہے یا غیر مجاز رسائی کا سامنا کر سکتا ہے۔ جن صارفین نے اپنے موبائل نمبر تبدیل کیے ہیں انہیں واٹس ایپ کے چینج نمبر فیچر سے اکاؤنٹ موجودہ نمبر پر منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جس کے بارے میں اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس سے غلط استعمال کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

دونوں رپورٹس کے مطابق یہ اقدام پی ٹی اے کی ان سابقہ تنبیہات کے تسلسل میں ہے جن میں غیر فعال یا منسوخ سم پر رجسٹرڈ واٹس ایپ اکاؤنٹس کے سیکیورٹی خطرات کا ذکر کیا گیا تھا۔ ٹیک جوس نے لکھا کہ اتھارٹی پہلے بھی اسی خطرے کی نشاندہی کر چکی ہے، جبکہ پروپاکستانی نے نئے قدم کو اس خطرے کو کم کرنے کی کوشش قرار دیا۔

تاہم دونوں رپورٹس میں نہ کسی نوٹیفکیشن کا متن دیا گیا، نہ بلاکنگ کے آغاز کی تاریخ، نہ یہ معیار بتایا گیا کہ کس سم کو غیر فعال سمجھا جائے گا، اور نہ متاثرہ اکاؤنٹس کی تعداد۔ ان رپورٹس میں پی ٹی اے کی جانب سے کوئی تفصیلی عوامی بیان بھی سامنے نہیں آیا۔ اس لیے یہ واضح نہیں کہ بلاکنگ تمام غیر فعال نمبروں پر خودکار طریقے سے ہو رہی ہے، یا صارف کو اکاؤنٹ معطل ہونے سے پہلے انتباہ دیا جاتا ہے، اور نہ یہ کہ سم دوبارہ فعال ہونے پر اکاؤنٹ بحال ہو سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جن صارفین کے پاس پرانا سم اب بھی موجود ہے وہ چینج نمبر کے ذریعے اکاؤنٹ منتقل کر سکتے ہیں، جبکہ نمبر کسی اور کو جاری ہو جانے کی صورت میں کوئی طریقہ کار نہیں بتایا گیا۔

پاکستان میں واٹس ایپ اکاؤنٹ موبائل نمبر سے منسلک ہوتا ہے، اسی لیے ریگولیٹر غیر فعال یا دوبارہ جاری ہونے والے سم کو اکاؤنٹ پر قبضے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ دونوں رپورٹس اس اقدام اور صارفین کے لیے پی ٹی اے کی ہدایات پر متفق ہیں، تاہم کسی نے بھی اس کی رسائی کا کوئی عدد نہیں دیا۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔