پی ٹی اے نے ٹیلی کام ٹاورز کے پاور بیک اپ کا معائنہ شروع کر دیا
نو زونل دفاتر کی ٹیمیں شہری اور دیہی علاقوں میں بیٹریوں، جنریٹرز اور شمسی توانائی کے نظام کا جائزہ لے رہی ہیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں ٹیلی کام ٹاورز کے پاور بیک اپ سسٹم کا جسمانی معائنہ شروع کر دیا ہے، جس کا اعلان ٹیک جوس اور اردو پوائنٹ نے بدھ کو کیا۔
نو زونل دفاتر یعنی کراچی، لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ، ایبٹ آباد، پشاور، ملتان، فیصل آباد اور مظفر آباد کی ٹیمیں شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں ٹیلی کام ٹاورز کا دورہ کر رہی ہیں۔ معائنہ کار بیٹری بینک، ڈیزل جنریٹر اور شمسی توانائی کے نظام چیک کر رہے ہیں، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں بار بار لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔
مقامی نمائندے اور ان کے نامزد افراد معائنہ ٹیموں کے ساتھ جا رہے ہیں تاکہ ایسی جگہوں کی نشاندہی کی جا سکے جہاں بجلی کی بندش کے دوران موبائل سگنل کمزور ہو جاتے ہیں یا خدمات متاثر ہوتی ہیں۔ ریگولیٹر نے کہا کہ اس مشق کا مقصد بیک اپ پاور سپلائی میں خامیوں کی نشاندہی کرنا اور گرڈ بجلی بند ہونے پر موبائل خدمات میں تسلسل بہتر بنانا ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ریٹائرڈ) حفیظ الرحمٰن نے زونل دفاتر کو ہدایت دی ہے کہ وہ ٹیلی کام ٹاورز کی باقاعدہ نگرانی جاری رکھیں۔ ان کی ہدایت کو سب سے پہلے ٹیک جوس نے رپورٹ کیا، اور یہ اعلان اردو پوائنٹ پر بھی شائع ہوا۔
پاکستان میں موبائل صارفین طویل عرصے سے لوڈ شیڈنگ کے دوران کال ڈراپ، انٹرنیٹ کی سست رفتار اور کنیکٹیویٹی ختم ہونے کی شکایت کرتے رہے ہیں۔ ٹیلی کام ٹاور سائٹس بجلی کی مرکزی سپلائی ناکام ہونے پر بیٹری بینک، ڈیزل جنریٹر اور بڑھتی ہوئی تعداد میں سولر پینلز پر انحصار کرتی ہیں، لیکن بیک اپ آلات ہمیشہ بروقت دیکھ بھال یا ایندھن فراہمی سے محروم رہتے ہیں۔
پی ٹی اے کے زونل دفاتر اپنے اپنے علاقوں میں ٹیلی کام ضوابط کے نفاذ اور نیٹ ورک کارکردگی کی نگرانی کے ذمہ دار ہیں۔ موبائل آپریٹرز نے حالیہ برسوں میں ٹاور انفراسٹرکچر میں تیزی سے توسیع کی ہے، لیکن بجلی کی بندش قابل اعتماد سروس کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
پی ٹی اے نے یہ نہیں بتایا کہ ملک کے کتنے ٹیلی کام ٹاورز کا معائنہ کیا جائے گا اور نہ ہی پہلے مرحلے کی تکمیل کی تاریخ دی ہے۔ کسی بھی رپورٹ میں معائنہ کیے گئے ٹاورز کی تعداد یا مہم کا ٹائم لائن فراہم نہیں کیا گیا۔
یہ معائنے ریگولیٹر کی موبائل آپریٹرز کو سروس کے معیار پر پابند رکھنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔ صارفین نے بجلی کی بندش کے دوران نیٹ ورک کی قابل اعتماد کارکردگی پر بار بار خدشات ظاہر کیے ہیں۔ پی ٹی اے نے یہ واضح نہیں کیا کہ معائنے تمام آپریٹرز پر محیط ہوں گے یا صرف چند سائٹوں کا نمونہ لیا جائے گا۔
زونل ٹیمیں اپنی رپورٹس پی ٹی اے ہیڈکوارٹر جمع کرائیں گی، لیکن ریگولیٹر نے ناقص بیک اپ انتظامات والے آپریٹرز کے خلاف کسی کارروائی کا اعلان نہیں کیا۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔