مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

صارفین کی شکایات پر ٹیلی کام کمپنیوں کو 3.41 ارب روپے جرمانہ

پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار سال میں 86 شوکاز نوٹس اور 20 وارننگ لیٹرز جاری کیے گئے، اور کمپنیوں کو اکتوبر 2026 تک کوریج گیپ ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
صارفین کی شکایات پر ٹیلی کام کمپنیوں کو 3.41 ارب روپے جرمانہ

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے گزشتہ چار سالوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں پر خدمات کے خراب معیار کے باعث 3 ارب 41 کروڑ روپے سے زیادہ کے جرمانے عائد کیے ہیں۔ یہ اعداد و شمار پی ٹی اے کے ذرائع نے ایکسپریس نیوز کو فراہم کیے۔

رپورٹ کے مطابق جرمانوں کے ساتھ ساتھ 86 شوکاز نوٹس اور 20 وارننگ لیٹرز بھی جاری کیے گئے۔ ایک بڑی کمپنی پر سب سے زیادہ تقریباً 35 کروڑ روپے کا جرمانہ کیا گیا۔

اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رقم کیسے بڑھی۔ پہلے 39 شوکاز نوٹس اور 17 وارننگ لیٹرز پر 6 کروڑ 89 لاکھ روپے کا جرمانہ بتایا گیا تھا، لیکن سروس کا معیار بہتر نہ ہونے پر یہ رقم بڑھ کر 3 ارب 41 کروڑ روپے ہو گئی۔

پی ٹی اے نے 700 سے زیادہ سروے کیے، جن میں 500 سے زیادہ کوالٹی آف سروس سروے شہروں، دیہاتوں، ہائی ویز، موٹرویز اور ریلوے ٹریکس پر کیے گئے، جبکہ 200 سے زیادہ سروے عوامی شکایات کی بنیاد پر کیے گئے۔

شکایات ہی کارروائی کی بنیادی وجہ ہیں۔ صرف 2025 کے پہلے چھ ماہ میں 8,000 سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 99.17 فیصد حل کر دی گئیں۔ زیادہ تر شکایات اتھارٹی کی ٹول فری ہیلپ لائن 0800-55055 پر موصول ہوئیں۔

جرمانوں کے علاوہ پی ٹی اے نے کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسلام آباد، راولپنڈی سمیت دیگر شہروں میں کوریج گیپ اکتوبر 2026 تک ختم کریں اور ہر کمپنی سالانہ 1,000 نئی سائٹس لگائے۔ اتھارٹی کے مطابق 480 MHz اضافی سپیکٹرم جاری کیا گیا ہے، جس کا مقصد 4G کی رفتار 14 Mbps سے بڑھا کر 120 Mbps اور 5G کی رفتار 150 Mbps تک لے جانا ہے۔

مسئلہ صرف کمپنیوں کا نہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 9,000 موبائل سائٹس یعنی کل کا 17 فیصد بجلی کی لوڈشیڈنگ، رائٹ آف وے کے جھگڑوں، بجلی کی چوری اور ٹاورز سے سامان کی چوری کے باعث بند رہتی ہیں۔ سب سے خراب صورتحال خیبر پختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ہے۔ یہ ریکارڈ قومی اسمبلی میں بھی پیش کیا گیا۔

پی ٹی اے کے ترجمان نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ عوام کو بلا تعطل خدمات فراہم کرنے کے لیے نوٹسز اور کوالٹی سروے کی بنیاد پر کمپنیوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی جاری ہے۔

ادھر اردو پوائنٹ نے خبر دی ہے کہ اے اے ای ون زیرِ سمندر کیبل کی مرمت کے باعث 2 نومبر تک مصروف اوقات میں صارفین کو انٹرنیٹ کی سست رفتار کا سامنا رہ سکتا ہے۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔