مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

پی ٹی آئی نے کے پی میں چھاپوں اور گرفتاریوں کی مذمت کی، گوہر نے مذاکرات پر زور دیا

جماعت نے دو صوبائی وزراء کے گھروں پر چھاپوں اور جنوبی وزیرستان سے ایم این اے کی گرفتاری کا الزام لگایا ہے، 27 ستمبر کے مارچ سے قبل سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
پی ٹی آئی نے کے پی میں چھاپوں اور گرفتاریوں کی مذمت کی، گوہر نے مذاکرات پر زور دیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بدھ کو ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات پر زور دیا، جب کہ ان کی جماعت نے خیبر پختونخوا کے دو صوبائی وزراء کے گھروں پر چھاپوں اور جنوبی وزیرستان سے ایک ایم این اے کی گرفتاری کی اطلاع دی۔

لاہور میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتار بہنوں سے اظہار یکجہتی کے لیے آئے گوہر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بانی کے خاندان کے چار افراد اور قومی اسمبلی کے آٹھ ارکان حراست میں ہیں، جب کہ کچھ صوبائی وزراء لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی تنازعات صرف سیاسی طریقے سے حل ہو سکتے ہیں اور سیاست میں کوئی بات حتمی نہیں ہوتی۔

گوہر نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو مذاکرات کے لیے تیار قرار دیا۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر سنجیدگی نہ دکھانے کا الزام لگایا اور کہا کہ اس وقت کوئی بامعنی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا کی صورتحال کو "غیر اعلانیہ گورنر راج" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی اختیارات پر مؤثر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ گوہر نے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کے دوران ریاستی اداروں پر حملے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی احتجاج پرامن رکھنا چاہتی ہے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے بیان کے مطابق صوبائی وزیر برائے ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہاں کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا، جب کہ بنوں میں وزیر آبپاشی ریاض خان کے گھر پر بھی پولیس کی بھاری نفری پہنچی۔ جماعت نے الزام لگایا کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایم این اے محمد زبیر خان وزیر کی رہائش گاہ کو نامعلوم افراد نے گھیرے میں لے کر اہل خانہ کو یرغمال بنایا اور بعد میں پولیس نے فائرنگ کے تبادلے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

پی ٹی آئی نے واقعات کو جمہوری روایات پر حملہ قرار دیتے ہوئے غیر جانبدارانہ انکوائری، ملوث پولیس افسران کے خلاف کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پرامن احتجاج آئینی اور قانونی حق ہے اور وہ اسے جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کہتا ہے کہ احتجاج نہ کرو تو آئین سے یہ شق نکال دی جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے حالیہ دنوں میں پارٹی کارکنوں، عہدیداروں اور منتخب نمائندوں کو نشانہ بنایا۔

آفریدی نے دعویٰ کیا کہ وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد خان حال ہی میں اغوا اور قتل کی کوشش سے بال بال بچے، جب کہ ایم این اے فضل محمد خان کو مردان میں اغوا کیا گیا۔ انہوں نے صوبائی افسران پر زور دیا کہ وہ کسی دوسرے ادارے کے غیر قانونی احکامات پر عمل نہ کریں، اور وفاقی حکام کے بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔