پنجاب بھر میں 5 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ
عوامی مقامات پر پانچ یا زائد افراد کے اجتماع، جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی ہوگی جبکہ شادی، نماز جنازہ اور مساجد مستثنیٰ ہیں۔

پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں 5 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا زائد افراد کے اجتماع، جلوس اور اکٹھ پر پابندی ہوگی۔ یہ اقدام دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ دفعہ 144 انتظامیہ کو ایک مقررہ مدت کے لیے اجتماعات پر پابندی کا اختیار دیتی ہے۔
اردو پوائنٹ اور ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ حکم 23 ستمبر سے نافذ العمل ہے اور 14 روز تک جاری رہے گا۔ اس دوران ریلیاں، جلسے، دھرنے، جلوس اور مظاہروں پر پابندی ہوگی۔ عوامی مقامات پر ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی پابندی عائد ہے، اور غیر قانونی اجتماعات میں شرکت کی ترغیب دینے پر بھی پابندی ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ یہ پابندی ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144(6) کے تحت سیکرٹری داخلہ نے عائد کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے فوری نوعیت کے خطرات کی اطلاع دی تھی، جن کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ اجتماعات، ریلیاں اور دھرنے ممکنہ آسان ہدف بن سکتے ہیں۔
پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہوگا۔ عدالتیں، حکومتی ادارے اور باضابطہ اجازت سے ہونے والی تقریبات مستثنیٰ ہیں۔ ڈیوٹی پر مامور قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر بھی پابندی لاگو نہیں ہوگی۔
محکمہ داخلہ کے مطابق عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی عوامی امن، سکون اور جان و مال کو درپیش سنگین خطرات کے پیش نظر عائد کی گئی۔

پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی کیو آر پینک بٹن نصب
اسپتال میں کوڈ اسکین کرنے پر مریض ہیلپ لائن 15، لائیو چیٹ یا ویڈیو کال کے ذریعے سیف سٹی سے رابطہ کر سکتا ہے اور ورچوئل بلڈ بینک سے مدد لے سکتا ہے۔

فخر زمان کی 127 رنز کی بدولت پاکستان سہ ملکی سیریز کا فاتح
پاکستان نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں 326 رنز کا ہدف 48.3 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر مکمل کیا، جبکہ ابتدائی چار اوورز میں دو وکٹیں گر گئی تھیں۔

سیالکوٹ میں مہندی کی تقریب میں بھگدڑ، ایک ہلاک، 14 سے زائد زخمی
ڈسکہ روڈ پر فراز کرکٹ گراؤنڈ کے دروازے کھلتے ہی افراتفری پھیلی، جہاں ٹک ٹاکر محمد انصار جٹ 50 موٹر سائیکل، ایک گاڑی اور نقد انعامات دینے والے تھے۔

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی مسترد کر دی
ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ معاہدے کی حیثیت بین الاقوامی قانون کے تحت طے ہونی چاہیے، جبکہ اٹارنی جنرل نے بھارت کے خلاف قانونی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔