پنجاب میں 60,015 اسکولوں کی نگرانی کے لیے ایپ لانچ
محکمہ اسکول ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ ایس ای ڈی، پی ای آئی ایم اے اور پی ای ایف کی الگ الگ نگرانی اب ایک ہی لاگ ان پر آ جائے گی۔

پنجاب کے محکمہ اسکول ایجوکیشن نے اسکول مانیٹرنگ ایپ لانچ کی ہے جس کے بارے میں محکمے کا کہنا ہے کہ صوبے بھر کے 60,015 اسکول ایک ہی ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کے تحت آ جائیں گے۔
محکمے کے مطابق ایپ کے ذریعے مجاز عملہ طلبہ کے سیکھنے کے نتائج، اساتذہ کی کلاس روم کارکردگی اور اسکول کی عمارتوں کی حالت کا جائزہ لے سکے گا۔ ایپ میں طلبہ کے داخلے اور دستیاب کلاس رومز کی تعداد کی معلومات بھی شامل ہوں گی۔ محکمے کا کہنا ہے کہ یہ نظام بکھرے ہوئے مانیٹرنگ طریقوں کی جگہ ایک ہی پلیٹ فارم دے گا جس سے ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے کیے جا سکیں گے۔
پلیٹ فارم تین اداروں کی نگرانی کے کام کو ایک جگہ جمع کرتا ہے: محکمہ اسکول ایجوکیشن، پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی (پی ای آئی ایم اے) اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پی ای ایف)۔ اس لانچ کی خبر ٹیک جوس اور پروپاکستانی دونوں نے شائع کی۔
محکمے کے مطابق صارف شناختی کارڈ اور پاس ورڈ سے لاگ ان کرتا ہے، اپنے تفویض کردہ اسکول منتخب کرتا ہے اور پھر طلبہ کے امتحانات، تدریس کے مشاہدے اور بنیادی سہولیات سے متعلق حصے کھولتا ہے۔ رسائی صرف مجاز صارفین اور انہی اسکولوں تک محدود ہے جو انہیں تفویض کیے گئے ہوں۔
محکمے کو توقع ہے کہ یہ نظام شفافیت بڑھائے گا، اسکولوں کی نگرانی مضبوط کرے گا اور پنجاب کے تعلیمی نظام میں جن شعبوں کو بہتری کی ضرورت ہے ان کی نشاندہی میں مدد دے گا۔
تاہم ان رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایپ پر کتنا خرچ آیا، اسے کس نے بنایا، یہ مکمل طور پر کب نافذ ہوگی، یا یہ اسکولوں کے جسمانی معائنوں کی جگہ لے گی یا نہیں۔ محکمے نے لانچ کے حوالے سے جو معلومات جاری کیں ان میں یہ تفصیلات شامل نہیں تھیں۔
اب تک پنجاب کے اسکولوں کی نگرانی محکمے کا اپنا عملہ اور وہ دیگر دو ادارے الگ الگ انجام دیتے رہے ہیں جن کے کام اب ایک لاگ ان پر جمع کر دیے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسکول کے عملے کا معائنہ ایک سے زیادہ ٹیمیں اور ایک سے زیادہ رپورٹنگ فارمیٹ میں کر سکتی تھیں۔
یہ بھی واضح نہیں کہ ایپ کے ذریعے جمع ہونے والا ڈیٹا شائع کیا جائے گا یا نہیں، یا کسی ایک اسکول کے نتائج والدین کو دکھائے جائیں گے یا نہیں۔ محکمے نے ایپ کو افسران کے لیے نگرانی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
60,015 کا عدد ان اسکولوں کا ہے جو اس نظام میں شمار کیے گئے ہیں۔ محکمے نے یہ نہیں بتایا کہ ان میں سے کتنے اس وقت فعال ہیں، ہر اسکول کی ایپ کے ذریعے کتنی بار نگرانی ہوگی، اور جن اسکولوں کے ڈیٹا میں مسائل سامنے آئیں گے ان کا کیا ہوگا۔

فخر زمان کی 127 رنز کی بدولت پاکستان سہ ملکی سیریز کا فاتح
پاکستان نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں 326 رنز کا ہدف 48.3 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر مکمل کیا، جبکہ ابتدائی چار اوورز میں دو وکٹیں گر گئی تھیں۔

سیالکوٹ میں مہندی کی تقریب میں بھگدڑ، ایک ہلاک، 14 سے زائد زخمی
ڈسکہ روڈ پر فراز کرکٹ گراؤنڈ کے دروازے کھلتے ہی افراتفری پھیلی، جہاں ٹک ٹاکر محمد انصار جٹ 50 موٹر سائیکل، ایک گاڑی اور نقد انعامات دینے والے تھے۔

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی مسترد کر دی
ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ معاہدے کی حیثیت بین الاقوامی قانون کے تحت طے ہونی چاہیے، جبکہ اٹارنی جنرل نے بھارت کے خلاف قانونی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

پنجاب میں ڈاکٹروں اور ہسپتال کے عملے کے لیے وردی لازمی قرار
کمیشن کی ہدایت کے مطابق ڈاکٹروں کی وردی نیلی، پیرا میڈیکل عملے کی سبز اور لیبارٹری عملے کے لیے سفید کوٹ مقرر کیا گیا ہے