رپورٹ میں پاکستان کی ہندو آبادی 14.6 فیصد سے 2 فیصد سے کم ہونے کا دعویٰ
این ڈی ٹی وی اور ایک عرب نیوز نیٹ ورک کے مطابق یہ رپورٹ اپنے مصنفین، زیرِ بحث سالوں یا اعداد و شمار کے ماخذ کا ذکر نہیں کرتی۔
مذہبی آبادی سے متعلق ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ہندو آبادی کا تناسب 14.6 فیصد سے گھٹ کر 2 فیصد سے بھی نیچے آ گیا ہے۔ این ڈی ٹی وی اور عربی زبان کے نیوز نیٹ ورک شبکہ تواصل الاخباریہ نے یہی اعداد و شمار شائع کیے ہیں۔
دونوں ذرائع ابلاغ نے فیصد کا ایک ہی جوڑا بتایا، لیکن کسی نے بھی رپورٹ کے مصنف، اسے شائع کرنے والے ادارے، زیرِ بحث مدت یا اس میں استعمال ہونے والے ڈیٹا کا ذکر نہیں کیا۔
رپورٹس میں 14.6 فیصد کو کمی کا نقطۂ آغاز بتایا گیا ہے، مگر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ عدد کس سال سے متعلق ہے، یا یہ 1947 میں قائم ہونے والے پاکستان کے علاقے کی پیمائش کرتا ہے یا کسی بعد کی حد کا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ رپورٹ کمی کی وجہ ہجرت، مذہب کی تبدیلی، کم شرحِ پیدائش یا ان سب کے امتزاج کو قرار دیتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق کسی وفاقی وزارت، سرکاری ادارے یا سیاسی جماعت نے اس نتیجے پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا۔ دونوں ذرائع ابلاغ کی جانب سے نشر کی گئی تفصیلات میں کوئی سرکاری عدد، وضاحت یا تردید شامل نہیں تھی۔
پاکستان کی قومی مردم شماری میں ہر گھرانے کا مذہبی تعلق ریکارڈ کیا جاتا ہے، اور ملک میں اقلیتی برادریوں کی تعداد اور ان کے ساتھ سلوک پر سیاسی بحث وقتاً فوقتاً چلتی رہتی ہے۔ رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ نیا عدد مردم شماری کے اعداد و شمار سے لیا گیا ہے، کسی آزاد سروے سے، یا اندازوں سے۔
اصل دستاویز کے بغیر 14.6 فیصد سے 2 فیصد سے کم تک کے اس موازنے کی تصدیق ممکن نہیں۔ رپورٹس میں صرف دو فیصد اعداد دیے گئے ہیں، صوبے، ضلع یا سال کے حساب سے کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ پاکستان کی زیادہ تر ہندو آبادی سندھ میں رہتی ہے، مگر تفصیلات میں صوبائی اعداد شامل نہیں تھے۔
پاکستان میں اقلیتوں کے نمائندے ماضی میں اپنی گنتی کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے رہے ہیں، جبکہ حکام مردم شماری کے عمل کا دفاع کرتے آئے ہیں۔ رپورٹس میں کسی فریق کا قول شامل نہیں تھا۔
اگر رپورٹ مکمل طور پر شائع ہوئی یا کسی سرکاری محکمے نے اس پر تبصرہ کیا تو یہ خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔